Mohsin Khalid Mohsin
محسن خالد محسنؔ اکیسویں صدی کے اُن سنجیدہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نثری نظم کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکری مکالمے کی صورت عطا کی ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، نقاد بھی، محقق بھی اور معلم بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں صرف جذبے کی روانی نہیں بلکہ شعور کی تہہ داری بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا اصل نام محمد محسن خالد ہے مگر ادبی دنیا میں محسن خالد محسنؔ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ یکم جنوری 1987ء کو ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے نواحی گاؤں رسول پور میں پیدا ہوئے۔ دیہی ماحول صوفیانہ فضا اور گھریلو تہذیبی تربیت نے ان کی شخصیت کی فکری ساخت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ والد کے نظم و ضبط اور والدہ کے صوفیانہ ذوق نے ان کے مزاج میں حساسیت اور باطنی گہرائی پیدا کی۔
تعلیم کے سفر میں انہوں نے مسلسل جدوجہد کی اور پی ایچ ڈی اردو تک رسائی حاصل کی۔ تدریسی شعبے سے وابستگی نے ان کے فکری افق کو مزید وسعت دی۔ وہ بطور لیکچرار شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور یہی علمی سنجیدگی ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری محض وارداتِ قلبی نہیں بلکہ ایک باشعور انسان کی تہذیبی اور سماجی شہادت ہے۔
اردو نثری نظم کی روایت نسبتاً جدید ہے مگر اس کی فکری بنیادیں بہت گہری ہیں۔ ن م راشدؔ نے اس صنف کو فکری آزادی دی۔ میراجیؔ نے اس میں نفسیاتی پیچیدگی اور تہذیبی شعور شامل کیا۔ مظہر امامؔ نے اس کی نظری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں فرحت عباس شاہ، علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر اور دیگر شعرا نے اسے عصری حسیت سے جوڑا۔ نثری نظم کی اصل قوت یہ ہے کہ یہ قافیہ اور بحر کی پابندی سے آزاد ہو کر داخلی آہنگ پیدا کرتی ہے۔ اس میں لفظوں کی موسیقیت کے بجائے معنی کی موسیقیت اہم ہوتی ہے۔
اسی روایت میں محسن خالد محسنؔ کی نظم ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ ان کی نظم نہ مکمل تجرید ہے نہ محض بیانیہ۔ وہ داخلی کرب کو سماجی شعور کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے ہاں لفظ فنی نمائش کے لیے نہیں آتے بلکہ تجربے کی سچائی سے........
