Wonderboy Bayania, Riyasti Zaraye Ki Dotok Wazahat
پاکستان کی تازہ سیاسی فضا میں گردش کرتی قیاس آرائیاں، تجزیاتی کالموں کے استعارے اور طاقت کے مراکز سے منسوب مبہم اشارے ہمیشہ سے بحث و گفتگو کو ایک نئی سمت دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی ایک ایسے ہی بیانیے نے میڈیا، سیاسی حلقوں اور سوشل پلیٹ فارمز میں ایک نئی لہر پیدا کی، جب یہ تاثر ابھرا کہ شاید کسی مبینہ "ونڈر بوائے" کے ذریعے اقتدار کی بساط میں کسی ممکنہ تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ تاہم باخبر ذرائع کا موقف اس عمومی فضا سے یکسر مختلف ہے۔ ان ذرائع کے مطابق نہ تو وزارتِ عظمیٰ کی سطح پر کوئی غیر معمولی پیش رفت زیرِ غور ہے اور نہ ہی وزیرِاعظم شہباز شریف کو تبدیل کرنے کے لیے کسی متبادل یا غیر روایتی امیدوار کی تلاش جاری ہے۔ ان کے بقول اس نوعیت کی تمام چہ مگوئیاں قیاس اور صحافتی تعبیرات سے آگے نہیں بڑھتیں۔
ان ذرائع نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات، اعتماد اور باہمی احترام میں کسی نوعیت کی دراڑ یا سرد مہری کے تاثر کی کوئی بنیاد نہیں۔ ایک اہم پالیسی عہدے سے وابستہ ذریعے نے جب اس حوالے سے براہِ راست سوال کا سامنا کیا تو اس نے بلا تردّد یہی کہا کہ دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن، مشاورت کا تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی "انتہائی شاندار" سطح پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک ریاستی سطح کی یہ ہم ساختگی کسی عبوری مصلحت یا عارضی ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی تسلسل اور ذمہ دارانہ شراکت داری کا مظہر ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارا مباحثہ اُس وقت پروان چڑھا جب ایک سینئر کالم نگار کی تحریر میں "گرینڈ پلان" اور "ونڈر بوائے" جیسی علامتی اصطلاحات سامنے آئیں۔ کالم میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ........
