Maa Ki Azmat
مامتا کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ ماں خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے مگر اپنے اندر ساری کائنات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ ماں دنیا کی جتنی زبانیں ہیں جس بھی زبان میں بولا جائے ماں کے لفظ میں پیار بھری مٹھاس ہے ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک اخلاص و محبت پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈے سائے کی مانند ہے۔ چلچلاتی تند و تیز دھوپ میں اس کا دستِ شفقت و محبت شجرِ سایہ دار کی طرح ایک سائبان بن کر اولاد کو آرام و سکون کا احساس دلاتا ہے۔ ماں خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹ کر اپنے پھولوں کی مانند لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ پیار و محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی نہ وہ کبھی احسان جتاتی ہے
انسانی معاشرے کا باہمی ربط و ضبط صرف ماں ہی کے طفیل ہے۔ ماں کی آنکھ سے چھلکا ہوا ایک آنسو بحر اوقیا نوس سے گہرا ہوتا ہے۔ ٹوٹتے ہوئے پسماندہ معاشرے پوچھتے ہیں کہ جو حاکم سزا دیتے ہیں وہ ماں کی دعا کیوں نہیں دے سکتے؟ ماں نے تھپڑ مارا بچہ ماں سے لپٹ گیا ماں نے اٹھایا اور چوم لیا۔ جبکہ حاکم نے سزا دی تو رعایا باغی ہوگئی۔ باپ کی جائیداد کی وجہ سے آپس میں تنازعے اور نفرت پیدا نہ کرو اور ماؤں کے پیار و محبت کے وارث بن جاؤانسانیت سکھی ہو جائے گی۔ ماں کا کوئی نعم البدل نہیں جسطرح اللہ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں بچوں کے لئے توحید کا سمبل ہے بہت سے بچوں کی ایک ماں ہو یا پھر ایک ماں کے بہت سے بچے ہوں ماں تو ایک ہی رہے گئی۔ جوقیمتی کپڑے پہناتی ہیں وہ مائیں ہوتی ہیں جبکہ جو قیمتی کپڑے منگواتی ہیں وہ ہونے والی........
