Pakistan Ka Asal Marz Be Lagam Ikhtiyar
پاکستان کا اصل مرض بے لگام اختیار
بندن میاں کہتا ہے کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس ملک کے مسائل کی تشخیص بھی عجیب انداز میں ہوتی دیکھی ہے اور علاج بھی عجیب طریقے سے ہوتا دیکھا ہے۔ کبھی پوری قوت سے یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ فوج ہے اور جب تک فوج سیاست سے الگ نہیں ہوگی ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ پھر ایک زمانہ آیا جب آواز بلند ہوئی کہ نہیں جناب اصل خرابی تو سیاست دانوں میں ہے یہی لوگ ملک کو لوٹتے ہیں یہی اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں یہی اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور یہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے بجائے مزید بحرانوں میں دھکیلتے ہیں۔
قوم ابھی اس بحث سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلی تھی کہ ایک اور تشخیص سامنے آگئی کہ اصل خرابی عدلیہ میں ہے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور پستے ہیں اور انصاف کا نظام خود انصاف کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ ہر دور میں گواہیاں پیش ہوئیں دلائل دیے گئے الزامات لگے کرداروں کی نشان دہی ہوئی اور قوم کو یقین دلایا گیا کہ بس اب اصل مرض پکڑ لیا گیا ہے لیکن بندن میاں حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ اگر ہر مرتبہ مرض کی جڑ دریافت ہوگئی تھی تو پھر بیماری ختم کیوں نہ ہوئی اور اگر علاج بھی ہوتا رہا تو مرض بڑھتا کیوں گیا۔ یہی تو وہ مقام ہے جہاں بندن میاں اپنی مخصوص بے باکی سے کہتا ہے کہ شاید ہم نے بیماری کو کبھی مکمل جسم میں دیکھا ہی نہیں ہم نے ہمیشہ ایک عضو کو پورا جسم سمجھ کر علاج کیا اور پھر جب مرض ختم نہ ہوا تو کسی دوسرے عضو کو قصوروار ٹھہرا دیا۔
فوج نے سیاست میں مداخلت کی تو اس کا حساب ہونا چاہیے تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست دانوں نے بارہا اسی طاقت کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ سیاست دانوں نے کرپشن کی تو احتساب ہونا چاہیے تھا مگر احتساب بھی کئی مرتبہ سیاسی انتقام کا ذریعہ بنتا رہا۔ عدلیہ نے کہیں غلط فیصلے کیے یا ادارہ جاتی کمزوریاں دکھائی دیں تو اصلاح ضروری تھی لیکن عدلیہ کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور ریاستی اداروں کی مجموعی کارکردگی بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ یعنی مسئلہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ وہ پورا انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں طاقت جواب دہی سے بڑی ہوجائے اور اختیار ذمہ داری سے آزاد ہوجائے اور بندن میاں کہتا ہے کہ اب ایک اور نام بڑی شدت سے سامنے آرہا ہے بیورو کریسی۔ وہ بیورو کریسی جو ریاست کے روزمرہ نظام کو چلاتی ہے فائل کو حرکت دیتی ہے حکم کو نافذ کرتی ہے بجٹ خرچ کرتی ہے منصوبے بناتی ہے زمین کے معاملات دیکھتی ہے ٹیکس وصولی سے لے کر ترقیاتی منصوبوں تک ہزاروں فیصلوں میں موجود رہتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر........
