menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nasreen Anjum Bhatti, Us Ki Jaisi Koi Aur Nahi

15 6
29.01.2026

آج پنجابی اور اردو کی اُس شاعرہ کی برسی ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ "اوس دی ورگی نہ ہور کوئی"، نسرین انجم بھٹی۔ وہ 26 جنوری 2016ء کو جسمانی طور پر رخصت ہوئیں، مگر اصل سانحہ یہ نہیں کہ وہ مر گئیں، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ پنجاب کی اجتماعی آواز نہ بن سکیں۔ یا یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بننے ہی نہ دی گئیں۔ پنجابی دانش نے گویا اجتماعی طور پر یہ حلف اٹھا رکھا ہے کہ جو آوازیں ضمیر کو جگاتی ہیں، جو سوال اٹھاتی ہیں، جو انکار اور مزاحمت کی زبان بولتی ہیں، انہیں ضمیر کے قبرستان سے نکال کر کبھی اپنے نام نہاد مرکزی دھارے کے سیاسی، سماجی اور ادبی بیانیے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ وہی دانش ہے جس نے شاہ حسین، بلھے شاہ اور وارث شاہ جیسے کلاسیکی ملامتی شاعروں کو زندہ روایت بنانے کے بجائے مکتبی تنقید کی بھاری بھرکم کتابوں میں دفن کر دیا۔ انہیں گاؤں، قصبوں، شہروں کی روزمرہ زندگی سے بے دخل کیا گیا، تاکہ وہ سوال جو یہ شاعر صدیوں سے پوچھتے آئے ہیں، آج کے سماج کے اعصاب میں سرایت نہ کر سکے۔ یہی روایت بھگت سنگھ کے ساتھ برتی گئی اس نوجوان کی قربانی کو ایک محفوظ تاریخی واقعہ بنا دیا گیا، ایک ایسا واقعہ جس سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ حکومت نے حسینی والہ جیسے گاؤں کو مشرقی پنجاب میں دھکیل دیا تاکہ کوئی اس کی سمادھی پر جا کر انقلاب کی آگ اپنے سینے میں نہ بھر لے۔ لاہور میں اس کالج کے احاطے میں، جہاں وہ پڑھا، کوئی یادگار تعمیر نہ کی گئی، جس جیل میں اسے پھانسی دی گئی، اسے گرا کر سڑک گزار دی گئی اور اس سڑک کے چوک کو اس کے نام سے منسوب کرنے سے انکار کو عدالتی فیصلے کی سند عطا کر دی گئی۔ چند دیوانوں اور فرزانوں کے سوا، کسی نے اس انکار پر نہ شور مچایا، نہ واویلا کیا۔

لاہور نے حبیب جالب کی شاعری ضیاء الحق کے روحانی وارثوں کے سپرد کر دی، فیض کی "ہم دیکھیں گے" جماعتِ اسلامی کے حوالے کر دی اور نسرین انجم بھٹی کی آواز کو بھی اسی طرح خاموشی سے غائب کر دیا۔ ایوب خان اور جنرل ضیاء کے خلاف آواز اٹھانے والے، کوڑے کھانے والے، پھانسی کے تختے پر جھول جانے والے مشکل سے دس شہیدوں کی بھی کوئی یادگار تعمیر نہ کی گئی۔ بھٹو کی خاطر خود سوزی کرنے والوں کے لیے کوئی مینار نہ بنایا گیا۔ ہاں، یہ ضرور ہوا کہ شاہی قلعے کے سامنے رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کر دیا گیا، تاکہ طاقت کی تاریخ تو نظر آئے، مزاحمت کی نہیں۔

لکشمی مینشن میں سعادت حسن منٹو کے فلیٹ کو جماعتِ اسلامی کی تاجر تنظیم کے ہاتھ بیچ دیا گیا، استاد دامن کی بیٹھک کو خستہ حال ملبے کے ڈھیر میں بدلنے دیا گیا۔ پنجاب میں غدر پارٹی سے لے کر آزاد ہند فوج تک کے پنجابی سپاہیوں کی کوئی یادگار محفوظ نہ رکھی گئی۔ آزادی، انکار، مزاحمت، انقلاب، بغاوت اور کرانتی یہ سب استعارے اور نشانیاں پاکستانی پنجاب سے بے دخل کرکے ہندوستانی پنجاب کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ تنویر سپرا، ریاض، سائیں اختر جیسے شاعر نسیا منسیا کر دیے گئے اور نسرین انجم بھٹی، جو ہندوستانی پنجاب کے پاش کا نسوانی، زیادہ تلخ اور زیادہ بے رحم روپ تھیں انہیں بھی اسی خاموشی کے حوالے کر دیا گیا۔

ان کی وفات کو ابھی دس برس بھی نہیں گزرے کہ پنجاب کی جامعات، کالجوں اور اسکولوں میں ان کی نظمیں نوجوان نسل کی زبان پر نہیں۔ پنجاب سے شائع ہونے والے اخبارات میں ان کا ذکر ناپید ہے، ٹی وی چینلوں پر ان کی برسی کوئی خبر نہیں بنتی۔ سوشل میڈیا پر بلوچستان میں بیٹھے ڈاکٹر شاہ محمد مری ان کا تذکرہ کر رہے ہیں، مگر پنجاب میں جہاں وہ بولیں، لکھیں، لڑیں ان کا نام زبان زدِ عام نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ نسرین انجم بھٹی یاد کرنے کے لیے نہیں، سوچ بدلنے کے لیے خطرہ تھیں۔

پنجابی نوجوان عورتوں میں نسرین انجم بھٹی کا تذکرہ اس حد تک بھی نہیں جتنا ہندوستانی پنجاب میں جا بسنے والی امرتا پریتم کا ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر اس کی ساحر لدھیانوی سے محبت اور امروز کے ساتھ رفاقت کے قصوں تک محدود۔ پنجابی تو افضل توصیف کو بھی بھول چکے ہیں، اس کی برسی پر کسی نے یاد کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ پروین شاکر کو جانتی ہے؟ جواب آیا: ہاں۔ پھر پوچھا: نسرین انجم بھٹی؟ خاموشی۔ یہی سوال میں نے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی چند نوجوان لڑکیوں سے کیا، انہوں نے کندھے اچکا دیے۔ ایک عزیز کی وفات پر جمع خاندان کی نوجوان لڑکیوں سے پوچھا، وہ میرے چہرے کو تکنے لگ گئیں۔

یہ خاموشی اتفاق نہیں، یہ ایک منصوبہ ہے۔ یہ وہ سماج ہے جو شاعرہ کو تب تک برداشت کرتا ہے جب تک وہ زخموں پر گلاب رکھتی رہے، جیسے ہی وہ سانپ کو گردن پر بٹھا کر دکھا دے، اسے فراموشی کے اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ نسرین انجم بھٹی کی برسی پر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے انہیں کیوں نہیں یاد کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں یاد نہ کرنے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا؟ اور شاید اس کا جواب یہی ہے کہ پنجاب آج بھی ایسی آوازوں سے ڈرتا ہے جو اسے اس کا اصل چہرہ دکھا دیں۔

پنجابی نوجوان عورتوں میں نسرین انجم بھٹی کا تذکرہ اس حد تک بھی نہیں ہے جتنا ہندوستانی پنجاب جا بسنے والی امرتا پریتم کا ہوتا ہے اور وہ بھی بطور شاعرہ نہیں، بلکہ ایک رومانوی قصے کے طور پر۔ ساحر لدھیانوی سے محبت، امروز کے ساتھ رہنا۔

یہی امرتا پریتم کا تعارف ہے۔ شاعری، فکر، انکار، عورت کی خود مختار آواز؟ یہ سب ثانوی ہو چکا ہے۔ پنجابی سماج نے عورت شاعرہ کو بھی قصے کہانی میں بدل دیا ہے، تاکہ اس کی آواز سے کوئی سیاسی یا سماجی خطرہ لاحق نہ ہو اور پنجابی تو توصیف؟ اسے تو گویا اجتماعی حافظے سے محو ہی کر دیا گیا ہے۔ اس کی برسی پر کسی نے یاد کرنے کی زحمت تک نہیں کی نہ ادب کے رکھوالوں نے، نہ جامعات کے شعبہ ہائے اردو و پنجابی نے، نہ خود کو ترقی پسند کہلوانے والوں نے۔

میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میری والدہ جو پڑھی لکھی ہیں انھیں پروین شاکر یاد ہے۔ میری بیوی کو بھی یاد ہے پھر نسرین انجم بھٹی کیوں یاد نہیں ہے؟ میرے اندر ایک لمحے کی خاموشی، پھر دوسری طرف انکار۔

یہی آج نوجوان لڑکیوں کے لیے بھی میرا یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے میں کسی معدوم سیارے کا نام لے رہا ہوں وہ مجھے اس طرح دیکھنے لگتی ہیں جیسے میں کسی اجنبی زبان میں بات کر رہا ہوں۔ یہ محض لاعلمی نہیں تھی، یہ ایک منظم ناآشنائی تھی۔

میں نے ان کے سامنے نسرین انجم بھٹی کی نظم "کہیڑا ایں / تم کون ہو" کی چند سطریں پڑھیں۔

وہ سطریں جن میں عورت اپنے جسم، اپنی گردن، اپنے سچ اور اپنے سانپ کا نام لیتی ہے۔

اور پوچھا: ان لائنوں کا مطلب جانتی ہو؟ اب کی بار انہیں میری ذہنی صحت پر شبہ ہونے........

© Daily Urdu