Gharelu Kaam Aur Aurtein, Zati Tajurba Aur Ilm
گھریلو کام اور عورتیں، ذاتی تجربہ اور علم
سائرہ فاروق میری ایک دہائی سے زیادہ فیس بک فرینڈ ہیں۔ وہ سماجی موضوعات پر انتہائی سادہ مگر موثر انداز میں تحریریں لکھتی ہیں۔ انھوں نے گزشتہ روز ایک تحریر لکھی جو بظاہر ایک نہایت معمولی سے مسئلے پر تھی۔ وہ عورتیں جن کے کچن میں بغیر دھلے برتنوں کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے تو کیا وہ عورتیں ایسا کسی کام چوری کے سبب کرتی ہیں یا وہ نکھٹو ہوتی ہیں؟ بہت سارے مردوں نے اس پر گھر کے کام کو لیکر عورتوں پر طرح طرح کے منفی تبصرے کیے۔ سائرہ کی یہ تحریر اسی حوالے سے تھی۔
سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ یہ اور اس سے جڑے دیگر مسائل کا تعلق ہمارے معاشرے میں "ڈومیسٹک لیبر" کو "لیبر" نہ سمجھنے کے سبب ہے۔ اکثر مرد ہی نہیں بلکہ خواتین کی ایسی معتدبہ تعداد موجود ہے جن کے خیال میں ڈومیسٹک لیبر ایک "غیر پیداواری"، "ناقابل منفعت" محنت ہے اور یہ ایک ایسی محنت ہے جو باہر جاکر کی جانے والی محنت اور کام سے نہ تو جڑی ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے۔
عام طور پر جن گھرانوں میں عورتیں "جاب" نہیں کرتیں اور وہ بس گھریلو کام کرتی ہیں انہیں "فارغ " اور گھر کے مردوں کی کمائی پر گزارا کرنے والی عورتیں خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرا اکثر و بیشتر مردوں کا ہی نہیں بلکہ عورتوں کا بھی یہ خیال ہے کہ "گھریلو محنت" عورتوں کا ہی کام ہے۔ اس خیال کے تحت جو عورتیں باہر جاب کرتی ہیں ان کی باہر کی نوکری سے کہیں زیادہ ان کی "گھریلو محنت" کا کڑا احتساب ہوتا ہے اور اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہو تو انھیں سخت مشکل پیش آتی ہے۔
ہم نے "عورتوں کے سوال" کو اپنے اسٹڈی سرکلز کے لیڈ آف دینے والے مارکسی مرد اور عورت دانشوروں سے اس حوالے سے جو پہلا سبق پڑھا وہ یہ تھا کہ ڈومیسٹک لیبر جدید سرمایہ دارانہ دور میں ورکنگ کلاس خاندانوں ميں ان خاندانوں کے ورکرز کی قوت محنت برقرار رکھنے اور انہیں سرمایہ داری پیداوار کے لیے زیادہ منفعت بخش بنانے میں کلیدی رول ہی ادا نہیں کرتی بلکہ یہ مستقل کے محنت کشوں یعنی ان خاندانوں کے بچوں کی پرورش میں بھی بہت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس اعتبار سے ڈومیسٹک لیبر نہ تو غیر پیداواری ہے نہ ہی یہ اجرتی محنت سے کمتر ہے بلکہ........
