menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mujhe Nazmein Haunt Kyun Karti Hain?

19 0
02.05.2026

مجھے نظمیں ہونٹ کیوں کرتی ہیں؟

بعض رشتے نام کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی میں بنتے ہیں اور خاموشی ہی میں انسان کی پوری زندگی پر اثر ڈال دیتے ہیں۔ میرا اور نظم کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میں جب کسی اچھی نظم کو پڑھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے میرے دل کے بند کمرے کی کھڑکی کھول دی ہو۔ ایک ایسی ہوا اندر آتی ہے جو پرانی یادوں کو بھی جگا دیتی ہے اور نئے سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ شاید اسی لیے میں کہتی ہوں کہ نظمیں مجھے ہونٹ کرتی ہیں۔ وہ مجھے صرف اچھی نہیں لگتیں بلکہ میرے وجود کو چھوتی ہیں، میرے اندر اترتی ہیں اور مجھے میرے اپنے آپ سے ملواتی ہیں۔

غزل اپنی جگہ ایک خوبصورت صنف ہے۔ اس میں موسیقیت ہے، حُسن ہے، رمز ہے اور ایک دلکش تہذیب بھی۔ لیکن نظم کا معاملہ کچھ اور ہے۔ غزل اکثر ایک جذبے کو خوبصورت پیرائے میں بیان کرتی ہے جبکہ نظم پورے وجود کو اپنے دائرے میں لے لیتی ہے۔ غزل میں ایک شعر الگ بھی زندہ رہ سکتا ہے لیکن نظم ایک مکمل سانس کی طرح ہوتی ہے۔ اس کا آغاز بھی ضروری ہوتا ہے اور اختتام بھی۔ نظم انسان کے اندر چلنے والے انتشار کو زیادہ سچائی سے بیان کرتی ہے۔ اسی لیے جب دل الجھا ہو، جب دکھ بے نام ہو اور جب سوالوں کے جواب نہ مل رہے ہوں تو غزل سے زیادہ نظم سہارا دیتی ہے۔

محسن خالد محسن کی نظموں سے میرا تعلق بھی اسی داخلی ضرورت سے پیدا ہوا۔ میں نے ان کی نظموں پر ایم فل کا مقالہ لکھنے کی غرض سے ان کی نظموں کو پڑھنا شروع کیا تو ابتدا میں یہ صرف ایک علمی کام تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف تحقیق نہیں بلکہ اپنی ذات کی بازیافت ہے۔ میں ان کی نظموں کو نہیں پڑھ رہی تھی بلکہ وہ نظمیں مجھے پڑھ رہی تھیں۔ ہر مصرع میرے اندر کسی پرانے زخم پر ہاتھ رکھتا تھا۔ ہر استعارہ........

© Daily Urdu