Fani Taleem Ka Mustaqbil
ہر چند تفاخر سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے، کہ ہمارا شمار ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے، جس کی غالب آبادی نوجوانان پر مشتمل ہے، مگر یہ اعتراف کم ہی کیا جاتا ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ افراد کی شرح بے روزگاری25فیصد کے قریب ہے، لاکھوں کی تعداد میں بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے قومی ترقی کا سیدھا فارمولا بتایا تھا کہ افرادی قوت پر سرمایہ کاری کی جائے، اس مشورہ کو در خود اعتناء نہ سمجھا گیا، خطہ میں سب سے کم تعلیمی بجٹ مختص کرنے کا اعزاز اس ریاست کا ہے، یہی معاملہ فنی تعلیم کا بھی ہے۔
شنید ہے کہ حکومت پنجاب ان طلباء وطالبات کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی ہے جو انٹر یا میٹرک میں فیل ہوجاتے ہیں، یہ قدم ناکام طلباء پر تعلیمی بوجھ کی بجائے فنی مہارت دے کر انہیں بااختیار بنانا ہے۔
چائلڈ لیبر عالمی قوانین کے تحت خلاف قانون ہے مگر جس ریاست کی چالیس فیصد آبادی خط غربت کے تحت زندگی گذارنے پر مجبور ہو اور تعلیم بھی مہنگی ہو، وہاں زندگی اور روح کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے والدین دل پر پتھر رکھتے ہوئے اوائل عمر ہی میں نیم خواندہ بچوں کو مشقت پرڈال دیتے ہیں۔ وہ فن سے آراستہ تو جاتے ہیں مگر اس سرٹیفکیٹ سے محروم رہتے ہیں، جو بہتر روزگار کے لئے لازمی ہے، پنجاب سرکار کا یہ احسن اقدام ہے، مگر لازم ہے کہ والدین کو اعتماد میں لے کر انہیں فنی مہارت بمعہ وظیفہ دیاجائے مزدوری کا بوجھ اٹھانے سے یہ بہت بہتر ہے، مشاہدہ بتاتا ہے کہ بعض طلباء یا طالبات جو تھیوری پڑھنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے مگر عملی کام........
