menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Billi Aur Choohe Ka Khel

29 6
20.02.2026

بھلے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گائوں میں امام مسجد رہا کرتے تھے، مسجد کمیٹی نے انکی ماہانہ تنخواہ دو سو روپے مقرر کی، اہل دیہہ اسے کھانا دیا کرتے تھے، پھر ایسا ہوا کہ انکی زوجہ بیمار پڑ گئیں، دیسی ٹوٹکے علاج کے لئے آزمائے گئے مگر زیادہ افاقہ نہ ہوا اور وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں، مولوی جی تنہا رہ گئے، انکی سادگی دیکھیں انہوں نے مسجد کمیٹی کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ جو تنخواہ مجھے دیتے ہیں، اب اس کا نصف مجھے ادا کیا کریں کیونکہ میری بیوی وفات پا چکی ہے اور میرا اس رقم میں گزارہ ہو جائے گا۔

روایت ہے کہ انقلابی شاعر جید صحافی فیض احمد فیض کو60 کی دہا ئی میں کراچی کے ایک معروف سرکاری کالج میں رئیس ادارہ کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیش کش ہوئی، جس کو انہوں نے قبول کر لیا، شرائط طے ہوئیں، انہیں معاہدہ پر دستخط کرنے کو کہا تو اس وقت انہیں جو تنخواہ دینے کی آفر ہوئی وہ ان کے اندازے بہت زیادہ تھی، انہوں نے معاہدہ قبول کرنے کے لئے ایک روز کا وقت مانگا، اگلے ورز انہوں نے معاہدہ میں پیش کردہ آدھی تنخواہ پرکام کرنے کی حامی بھر لی اور وقت لینے کی وجہ بتائی کہ میں نے اپنے گھر کے تمام اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئے وقت مانگا تھا۔

اسی طرح کی ایک اور روایت ہے کہ کراچی کے معروف انگریزی اخبار میں کام کرنے والے جید ایڈیٹر کو لاہور سے نئے شائع ہونے والے انگریزی اخبارمیں ڈبل تنخواہ پر کام کرنے کی جب پیش کش ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی جب معاوضہ........

© Daily Urdu