menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Thank God

57 462
19.05.2026

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شاندار مثال ہے، آپ اگر زندگی بھر اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھنا چاہتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کے کرم، مہربانی اور رحم کو محسوس کرنا چاہتے ہیں اور آپ اس کی مصلحتوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو میرا مشورہ ہے آپ اس واقعے کو اپنے پرس میں رکھ لیں اور اسے دن میں کم از کم ایک بار ضرور پڑھیں، آپ کو زندگی کی کوئی تکلیف، تکلیف نہیں دے گی۔

اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ انسانوں کو بڑی مصیبت سے بچانے کے لیے عموماًان پر چھوٹی مصیبت بھیج دیتا ہے، یہ چھوٹی مصیبت بڑی مصیبت کے راستے میں اسپیڈ بریکر ثابت ہوتی ہے اور یوں انسان بڑے ڈیزاسٹر سے بچ جاتاہے۔ کلارک فیملی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مسٹر اور مسز کلارک دونوں کام کرتے تھے، ان کے نو بچے تھے، ان کی آمدنی کم تھی، اخراجات زیادہ تھے اور ظاہر ہے ان حالات میں زندگی کچھ زیادہ خوبصورت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ بھی تنگی ترشی میں دن گزار رہے تھے، مسٹر کلارک کو پتہ چلا امریکا پوری دنیا کے لیے "گولڈ مائن" ہے۔

یورپ کے غریب، مسکین اور مفلس لوگ امریکا پہنچتے ہیں، وہاں دنوں میں بڑی بڑی کانوں، فارمز ہاؤسز، کارخانوں اور جانوروں کے باڑوں کے مالک بنتے ہیں اور شاہی خاندانوں جیسی زندگی گزارتے ہیں۔ مسٹر اور مسز کلارک نے بھی امریکا جا کر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، فیصلہ تو ہوگیا لیکن زاد راہ کا بندوبست نہیں تھا، نو بچے اور دو میاں بیوی کے لیے ٹھیک ٹھاک سرمایہ درکارتھا اور یہ لوگ بارہ گھنٹے کی محنت کے بعد جو کچھ کماتے تھے وہ مہینے کے آخر میں خرچ ہو جاتا تھا۔

یہ بحری جہازوں کا زمانہ تھا، یورپ کی آٹھ بڑی بندرگاہوں سے شپ چلتے تھے اور تین سے چھ ماہ میں امریکا پہنچتے تھے۔ مسٹر اینڈ مسز کلارک نے ہر صورت میں امریکا جانے کا فیصلہ کر لیا، انھوں نے رقم کا تخمینہ لگایا، اوور ٹائم شروع کیا، خوراک میں کمی کر دی، سردیوں کے کپڑے خریدنا بند کر دیے، دوست احباب اور رشتے داروں سے قرض لیا، آبائی زمین کا واحد ٹکڑا بیچا، گھر رہن رکھا اور یوں دو سال کی مسلسل کوشش کے بعد اتنی رقم جمع کر لی جس سے یہ لوگ لاس اینجلس پہنچ سکتے تھے، وہ مسٹر........

© Daily Urdu