Kuch Baatein Phoolon Ki, Chand Yaadein Kaliyon Ki
ہمارا ادب، بلکہ دنیا بھر کا ادب پھولوں کی خوشبوؤں سے مہکتا ہے۔ قرات العین حیدر کے ہاں رات کی رانی کا ذکر ہو، اے حمید امبرسر کے کمپنی باغ کے دیسی قلمی گلابوں کو یاد کرتے ہوں یا (بُھلا دی گئی) حجاب امتیاز علی کے ہاں موتیے کی کلیوں کی بات ہو، ہمارا ادب، ہماری مصوری، ہماری پشمینے کی شالوں پر بھینی مہک سے مہکتے پُھول کڑھے نظر آتے ہیں۔ ہمارے بڑوں بزرگوں کے ہاں بیٹیوں کے نام پھولوں پر رکھنے کا چلن عام تھا۔ کیا اچھی حسِ لطیف تھی ان کی۔ سوسن، نرگس، یاسمین، کس کس پھول کو یاد کیجیے، کس کس نام کو پُکاریے گا۔
حال میں شائع ہونے........
