menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Safarat Kari Se Paidar Aman

18 0
23.05.2026

سفارتکاری سے پائیدار امن

تصفیہ طلب مسائل کا حل سفارتی کوششوں سے ممکن ہے۔ جنگیں کسی طرح بھی مسائل کاحل نہیں کیونکہ اِس طرح صرف وسائل ضائع اور غربت و افلاس میں اضافہ ہوتا ہے۔ سفارتی عمل پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے مگر امریکی اور ایرانی رویے سے لگتا ہے کہ دونوں طرف جنگ کو مسائل کا حل تصور کیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ستم ظریفی تو یہ کہ دونوں ہی اِس طرح کے اقدامات وخیالات سے عالمی حمایت کھو رہے ہیں پھر بھی ایسے اقدامات میں مصروف ہیں جن سے خطے میں امن کی بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

ایسے حالات میں جب دونوں طرف امن کی خواہش کا فقدان ہے پاکستان تنازعے کے حل میں پورے عزم و یقین سے شامل اور پوری طرح سرگرمِ عمل ہے۔ نہ صرف سفارتی زرائع سے مدد لی جارہی ہے بلکہ حکومتی سطح کے روابط میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سفارتی اور حکومتی روابط میں تیزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں براہ راست مزاکرات کے لیے جاری رابطے حساس مراحل میں ہیں اور ایک بار پھر براہ راست بات چیت کا عمل ممکن ہے جو امن کے خواہشمندوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین بظاہر ڈیڈلاک کی کیفیت ہے اور دونوں طرف رویے میں لچک کا فقدان ہے جو امن کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کر سکتا ہے اور خطے میں ایک نئی ہولناک جنگ کا خطرہ حقیقت کا روپ دھارنے کے قریب ہے لیکن اِن نازک ایام میں پاکستان نے مخلصانہ کردار ختم نہیں کیا بلکہ یہ پاکستانی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ نہ صرف اب تک فائربندی برقرار ہے بلکہ امریکہ اور ایران دونوں پاکستانی........

© Daily Urdu