menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Riyasat Aur Wafaq Ke Mutaliq Taasur (1)

25 0
28.10.2026

ریاست اور وفاق کے متعلق تاثر (1)

برِاعظم دنیا کے خشکی کے اُس بہت بڑے ٹکڑے کو کہتے ہیں جو چاروں طرف سے سمندر سے گھرا ہوا ہو اور جس میں کئی ممالک، پہاڑ، ندیاں اور بڑے خطے شامل ہوں۔ ایک برِاعظم میں مختلف سلطنتیں، بادشاہتیں، نوابی ریاستیں، راجواڑے اور قومی ریاستیں ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اُن میں سے کچھ کے درمیان جنگیں ہو جائیں۔ اِسی طرح، کسی دور میں توسیع پسندی کا چلن ہو تو کوئی اکائی دوسری کو پورا یا اُس کے کچھ حصے کو ہڑپ کر جائے۔

ایک برِاعظم میں مختلف ممالک کے باشندے الگ زبانیں بولنے والے ہو سکتے ہیں، اُن کے رسوم و رواج منفرد ہو سکتے ہیں، اُن کی تاریخیں مختلف ہو سکتی ہیں، اُن پر لاگو ہونے والے ریاستی آئین، قانون اور ٹیکس کے نظام مختلف ہو سکتے ہیں اور اِس تمام انفرادیت کے ساتھ ساتھ اُن کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسری ریاستوں کے شہریوں کے ساتھ ایک برِاعظم میں رہتے ہیں۔ ایک برِاعظم کے باسی ہونا ایک علمی بات ہوتی ہے اور اُس کا اُن کی روزمرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اُن کی اصل وفاداری اور محبت اپنے ملک کے نام ہوتی ہے۔

جس خطے میں ہم رہتے ہیں اُسے آج کل تو "جنوبی ایشیا" کہتے ہیں، لیکن یہ تاریخی طور پر "برِصغیر" کہلاتا تھا۔ یعنی یہ ایک بڑا خطہ تھا لیکن یہ اِتنا بڑا بھی نہیں تھا کہ اِسے ایک باقاعدہ برِاعظم قرار دیا جاتا۔ اِس میں برِاعظموں کی طرح مختلف سلطنتیں، بادشاہتیں، نوابی ریاستیں اور راجواڑے ہوا کرتے تھے۔ اُن میں آپس میں جنگیں ہوتی رہتی تھیں اور مختلف اکائیوں کی سرحدیں گھٹتی بڑھتی رہتی تھیں۔ یہاں بسنے والے مختلف زبانیں بولنے والے تھے، اُن کے رسوم و رواج منفرد تھے، اُن کی تاریخیں مختلف تھیں، اُن پر لاگو ہونے والے ریاستی قوانین اور ٹیکسہائے گوناگوں کے نظام مختلف تھے مگر اِس تمام انفرادیت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو پتہ ہوتا تھا کہ وہ دوسری ریاستوں کے شہریوں کے ساتھ "ہندوستان" میں رہتے ہیں۔ ایک برِصغیر یا "ہندوستان" کا باسی ہونا اُن کے لیے اُسی طرح کی علمی بات ہوتی تھی جیسا بلغاریہ اور پولینڈ والوں کو احساس ہونا کہ وہ برِاعظم یورپ کے رہنے والے ہیں اور ہندوستانی ہونے کا اُن کی روزمرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، برِصغیر یا ہندوستان میں مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں میں آپس میں جنگیں ہوتی رہتی تھیں اور سرحدیں گھٹتی بڑھتی رہتی تھیں، اِس لیے اکثر اوقات لوگوں کے اپنے حکمرانوں سے معاملات اچھے/برے نہیں ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ حکمران کسی اور سلطنت یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی اور زبان بولتے ہوں اور اُس علاقے پر اپنے مقامی پٹھوؤوں کے ذریعے حکومت کرتے ہوں۔ اِس وجہ سے عام طور پر لوگوں کی اصل وفاداری اور محبت اپنے گاؤں یا قصبے کے آس پاس کے علاقوں تک محدود ہوتی تھی، جہاں عمومًا اُن ہی کی آبائی زبان بولی جاتی تھی اور اُس سے پرے باقی ہندوستان "پردیس" ہوا کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تینوں فوجوں کے ہندوستانی اہلکار جب جنگ لڑ کر کسی ریاست پر کمپنی کا قبضہ کراتے تھے تو اپنی سمجھ سے وہ "پردیسی" علاقوں کو فتح کر رہے ہوتے تھے۔ یہ بات اُن کے ضمیر کو کچوکے نہیں دیتی تھی کہ وہ "اپنے ملک" کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔

قبلِ........

© Daily Urdu