Saya Hai Yahan Par Mere Mola Ke Karam Ka
سایا ہے یہاں پر میرے مولا کے کرم کا
عالمی منظرنامے میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر پاکستان بالآخر دنیا کو ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی شدت کی شکل میں ایک ممکنہ بڑی قیامت سے بچانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ تاریخ کے ان نازک موڑوں میں سے ایک ہے جہاں ایک قوم کا کردار پوری انسانیت کے مستقبل پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی بروقت، متوازن اور حکیمانہ حکمتِ عملی نے نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، باشعور اور قائدانہ ریاست کے طور پر اس کی حیثیت کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سیاست، حکمت اور تقدیر ایک دوسرے میں مدغم ہوتی نظر آتی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک بار پھر صوفی برکت علی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی وہ بصیرت افروز پیش گوئیاں موضوعِ بحث بن گئی ہیں جن میں انہوں نے نہایت یقین کے ساتھ کہا تھا کہ دنیا کے بڑے فیصلے پاکستان کے مرہونِ منت ہوں گے۔ اس بیان کو ماضی میں شاید ایک روحانی تعبیر یا جذباتی اظہار سمجھا گیا ہو، مگر آج جب عالمی حالات اس سمت میں ڈھلتے نظر آ رہے ہیں تو یہ الفاظ محض پیش گوئی نہیں بلکہ ایک گہری بصیرت کا اظہار محسوس ہوتے ہیں۔
روحانی و فکری حلقوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسی معنوی حقیقت ہے جس کی جڑیں اس خطے کی صدیوں پر محیط روحانی تاریخ میں........
