Kya Bura Khawand Badal Sakta Hai?
کیا بُرا خاوند بدل سکتا ہے؟
شادی دو انسانوں کا صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ دو ذہنوں، دو مزاجوں، دو خاندانوں اور دو مختلف تربیتوں کا ملاپ ہے۔ جب یہ ملاپ محبت، احترام اور برداشت سے خالی ہو جائے تو گھر اینٹوں کی عمارت تو رہتا ہے مگر روح سے خالی ہو جاتا ہے۔ مشرقی سماج میں اکثر عورت سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ہر ظلم، ہر تلخی اور ہر ناانصافی کو خاموشی سے برداشت کرے کیونکہ اسے بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ شوہر خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ رکھتا ہے اور یہ تعلیم آدھی سچائی ہے۔ مذہب نے مرد کو حاکم نہیں بلکہ ذمہ دار بنایا ہے۔ عورت کو لونڈی نہیں بلکہ شریکِ حیات قرار دیا ہے۔ جب خاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے تو وہ صرف ایک عورت کا دل نہیں توڑتا بلکہ اپنے گھر کی بنیاد میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔
بُرا خاوند صرف وہ نہیں ہوتا جو ہاتھ اٹھائے۔ بعض مرد لفظوں سے قتل کرتے ہیں۔ طنز، بے عزتی، بے توجہی، شک، غصہ، گالم گلوچ اور مسلسل تحقیر بھی ظلم کی شکلیں ہیں۔ بعض مرد اپنی ناکامیوں کا غصہ بیوی پر نکالتے ہیں۔ بعض بچپن کی محرومیوں کے قیدی ہوتے ہیں۔ کچھ احساسِ کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کچھ کو طاقت دکھانے کی بیماری ہوتی ہے۔ مشرقی معاشرے میں مرد کو رونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسے احساسات چھپانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے اندر کا دبا ہوا خوف غصے میں بدل جاتا ہے۔ وہ محبت مانگنے کی بجائے حکم چلانا سیکھ لیتا ہے۔
ایسے مرد کو ٹھیک کرنا صرف نصیحت سے ممکن نہیں۔ انسان کو بدلنے کے........
