Adab, Tareekh Aur Jughrafia
ادب، تاریخ اور جغرافیہ
تاریخ صرف واقعات کی ترتیب کا نام نہیں اور جغرافیہ محض زمین، دریا، پہاڑ اور سرحدوں کے تعارف تک محدود نہیں۔ تاریخ انسانی شعور کی زمانی تشکیل ہے، جب کہ جغرافیہ اس شعور کی مکانی صورت گری کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی خطے کی سرحدیں بدلتی ہیں تو صرف زمین کے نقشے تبدیل نہیں ہوتے بلکہ یادداشت، شناخت، تہذیب، زبان، معاشرت، سیاست اور ادب کے معانی بھی نئے سرے سے مرتب ہونے لگتے ہیں۔
برصغیر کی تقسیم 1947ء اسی نوع کی ایک عظیم تاریخی و جغرافیائی واردات تھی جس نے محض دو ریاستوں پاکستان اور ہندوستان، کو جنم نہیں دیا بلکہ ایک ایسے تہذیبی، نفسیاتی اور ادبی بحران کو بھی جنم دیا جس کے اثرات آج تک جنوبی ایشیا کے فکری، سیاسی اور ادبی منظرنامے پر نمایاں ہیں۔ تقسیم نے جغرافیہ کو خون آلود سرحدوں میں تبدیل کیا، تاریخ کو ہجرت، قتل و غارت، جبر، خوف اور محرومی کے استعاروں سے بھر دیا اور ادب کو ایک ایسے زخم سے آشنا کیا جس کی کسک آج بھی ناول، افسانے، شاعری، خود نوشت، یادداشت اور تنقیدی مباحث میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
برصغیر کی تقسیم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ ایک تہذیبی و ادبی سانحے کے طور پر بھی پڑھا جائے۔ یہ سانحہ ایک طرف نوآبادیاتی سیاست، مذہبی قومیت، اکثریتی و اقلیتی خوف، نمائندگی کے بحران اور اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ تھا، تو دوسری طرف یہ لاکھوں انسانوں کی ٹوٹی ہوئی زندگیوں، بکھرتے ہوئے خاندانوں، اجڑتے ہوئے شہروں، بدلتی ہوئی زبانوں اور منتشر ہوتی ہوئی یادداشتوں کی داستان بھی تھا۔ چنانچہ تقسیم کے تناظر میں تاریخِ ادب اور جغرافیہ کے باہمی رشتے کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کس طرح ایک سیاسی فیصلہ انسانی وجود، تہذیبی ساخت اور ادبی اظہار کی گہرائیوں تک اثر انداز ہوتا ہے۔
برصغیر کی تہذیبی تاریخ ایک مرکب اور کثیرالابعاد تاریخ ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانیں، نسلیں، رسوم، سلطنتیں اور ثقافتیں باہم تعامل کے ذریعے ایک وسیع تہذیبی وحدت تشکیل دیتی رہی تھیں۔ اگرچہ سیاسی سطح پر مختلف ادوار میں اقتدار کے مراکز بدلتے رہے، مگر سماجی و ثقافتی سطح پر برصغیر ایک مشترک تہذیبی خطہ تھا۔ اس مشترک تہذیبی فضا میں زبان و ادب نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ فارسی، عربی، سنسکرت، برج، کھڑی بولی، پنجابی، سندھی، بنگالی، پشتو اور اردو سمیت متعدد زبانیں اس خطے کی فکری و جمالیاتی روایت کو مہمیز دیتی رہیں۔ اردو ادب بالخصوص اسی تہذیبی آمیزش کا حاصل تھا، ایک ایسی زبان اور ادبی روایت جو لشکری تجربے، شہری تہذیب، صوفی روایت، درباری کلچر، عوامی بولیوں اور بین المذاہب تعامل سے نمو پاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم سے پہلے کا اردو ادب برصغیر کی مشترکہ تہذیبی زندگی کا ایک زندہ آئینہ دکھائی دیتا ہے۔
تاریخِ ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ادب ہمیشہ اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات سے مکالمہ کرتا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں سلطنت، اخلاق، تصوف اور عشق کے مباحث ہوں یا جدید اردو ادب میں استعمار، قومیت، طبقاتی کشمکش اور جدیدیت کے سوالات، ہر دور کا ادب اپنے عہد کی تاریخی قوتوں سے متاثر بھی ہوتا ہے اور ان پر اثر انداز بھی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جب ہندوستان میں قوم پرستی، آزادی کی تحریک، ہندو مسلم تعلقات، نمائندگی کی سیاست، جداگانہ انتخاب، خلافت تحریک، کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاسی کشمکش اور نوآبادیاتی ریاست کے مفادات باہم ٹکرا رہے تھے، تب ادب بھی اس فضا سے بے نیاز نہیں تھا۔ ترقی پسند تحریک، قومی شاعری، مزاحمتی ادب اور تہذیبی مباحث سب اسی بڑے تاریخی پس منظر سے جڑے ہوئے تھے۔ ادب میں وطن، آزادی، شناخت، مظلومیت، طبقاتی استحصال اور قومی مستقبل کے سوالات شدت سے ابھرنے لگے تھے۔ تاہم اس عہد کا ایک بنیادی المیہ یہ تھا کہ سیاسی تخیّل جس قومی وحدت یا جداگانہ قومیت کی تشکیل کر رہا تھا، اس کے نتائج عام انسان کی زندگی اور تہذیبی وحدت کے لیے کس قدر تباہ کن ہوں گے، اس کا پورا ادراک شاید کسی کو نہ تھا۔
تقسیمِ ہند کا فیصلہ دراصل ایک ایسے تاریخی موڑ پر ہوا جب برطانوی سامراج اپنی نوآبادیاتی گرفت ڈھیلی کر رہا تھا مگر جاتے جاتے اس خطے کو ایسی سیاسی صورتِ حال میں چھوڑ گیا جس میں اقتدار کی منتقلی کے ساتھ ساتھ تقسیمِ جغرافیہ کا عمل بھی تیز رفتاری سے انجام دیا گیا۔ ریڈکلف لائن نے نقشے پر ایک لکیر کھینچی، لیکن یہ لکیر محض کاغذ پر نہیں کھنچی، اس نے دریاؤں، کھیتوں، بستیوں، قبرستانوں، عبادت گاہوں، زبانوں، یادوں اور انسانی رشتوں کے بیچ سے گزر کر ایک ایسے اجتماعی زخم کو جنم دیا جو نسلوں تک رستا رہا۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم اس سانحے کی سب سے ہولناک صورتیں تھیں۔ ایک ہی تہذیبی و لسانی خطے کو مذہبی بنیاد پر دو........
