Pakistan Zindabad
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی سفارتی مہارت اور تحمل کا لوہا منوایا ہے اور یہ کردار نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، جو امریکی اور ایرانی تعلقات میں ایک انتہا درجے کی بداعتمادی کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی، نے دنیا بھر کی توجہ اس حساس خطے کی جانب مرکوز کر دی تھی۔ آبنائے ہرمز، جو بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم نقطہ ہے، کشیدگی کی زد میں آ چکا تھا اور عالمی معاشی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی تھی۔ ایسے میں پاکستان نے بروقت ثالثی کا کردار ادا کرکے نہ صرف ایک دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی بلکہ آبنائے ہرمز کی جزوی کھلی صورت کے ذریعے عالمی اقتصادی اور توانائی کے مفادات کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
پاکستان کی ثالثی کو محض ایک درمیانی کردار کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کی فہم و فراست اور خطے کے امور میں مستقل دلچسپی کی علامت ہے۔ پاکستان نے ایران کی سلامتی کے خدشات کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ امریکہ کو یہ باور کرایا کہ کشیدگی کا حل صرف عسکری دباؤ یا جنگی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ اس حکمت عملی نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ ایک اعتماد سازی کا عمل بھی شروع کیا، جو مستقبل میں دیر پا تعلقات کے لیے بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی کے تحت چند بنیادی نکات کو طے پایا گیا: فوری لڑائی بندی اور عسکری کارروائیوں کا معلق ہونا، آبنائے ہرمز کی جزوی کھلی صورت اور بین الاقوامی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ........
