Nizam e Bureaucracy
دستِ قدرت نے امانتِ حکومت اور تدبیرِ مملکت کا جو بارِ گراں انسان کے ناتواں دوش پر ڈالا ہے، اس کا اصل گوہر "عدل" اور "سعیِ نافع" سے تعبیر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی و انتظامی افق پر مسلسل بدعنوانی اور انحطاط کا جو نوحہ رقم ہو رہا ہے، اس کی تمام تر مسئولیت اور جفا کا تازیانہ بلا تامل سیاسی طبقے کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا سہل اور سطحی مغالطہ ہے جس نے مرض کی اصل علت یعنی "الّذِينَ ضَلَّ سَعُيُهُمُ فِي الُحَيَاةِ الدُّنُيَا" کے مصداق فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے پر پردہ ڈال رکھا ہے۔
سیاست دان، اپنے تمام تر نقائص اور سیاسی مصلحتوں کے باوجود، جمہوریت کی عدالت میں جواب دہ ہیں اور وہی پالیسی کا ہیولا ترتیب دیتے ہیں۔ لیکن اس سیاسی ارادے کو میدانِ عمل میں مجسم کرنا، خواہ وہ صحت کے معالج خانوں کا قیام ہو یا زراعت کی سرسبزی ایک ایسے زندہ و متحرک انتظامی وجود کا تقاضا کرتا ہے جو نوآبادیاتی دور کے اس کاغذی صنم خانے میں مسلسل دم توڑ رہا ہے جہاں خدمت کے بجائے محض عملداری کا سودا کیا جاتا ہے۔
اس انتظامی فالج اور........
