Auto Policy 2030
پاکستان کی معیشت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں پالیسی سازی اب محض داخلی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی مالیاتی ڈھانچوں کے ساتھ ہم آہنگی اس کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان ایک نئی پانچ سالہ آٹو سیکٹر پالیسی پر اصولی اتفاق، محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ صنعتی سمت کے تعین کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی پیداواری معیشت کو ازسرِنو متوازن کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور تجارتی ڈھانچے کو زیادہ مسابقتی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت سب سے اہم تبدیلی گاڑیوں کی درآمدات پر لاگو ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں تدریجی کمی ہے، جسے 2030 تک 10.6 فیصد سے کم کرکے 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ محض عددی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت ریاست بتدریج تحفظاتی (Protectionist) پالیسیوں سے ہٹ کر زیادہ کھلی اور مسابقتی منڈی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تبدیلی کا براہِ راست اثر مقامی آٹو انڈسٹری، درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں اور صارفین کی قوتِ خرید پر پڑے گا۔
اسی فریم ورک کے تحت یہ بھی طے پایا ہے کہ درآمدات پر کسی قسم کی اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) نافذ نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف دونوں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بار بار کی جانے والی........
