Nizam e Adal: Mahar Nahi, Mayar Badalne Ki Zaroorat
نظامِ عدل: مہاڑ نہیں، معیار بدلنے کی ضرورت
پاکستان میں آئینی ترامیم ایک معمول کا حصہ رہی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں یہ عمل محض قانونی ضرورت کے بجائے ادارہ جاتی کشمکش کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔ آئین کی روح "اختیارات کی تقسیم" (Separation of Powers) میں ہے، جہاں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے پر توازن قائم رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ توازن بگڑ جائے تو نظام انصاف محض ایک نظریہ بن کر رہ جاتا ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی نے اس توازن کو شدید متاثر کیا۔ جب پارلیمان نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آئینی ترامیم کا راستہ اختیار کیا تو عدلیہ کی جانب سے اس میں مداخلت نے اداروں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔
چھبیسویں، ستائیسویں اور ممکنہ اٹھائیسویں ترامیم اسی کشمکش کا تسلسل ہیں۔ اپوزیشن انہیں عدلیہ کے اختیارات میں کمی قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کے........
