Hamari Zindagi Mein Fanoon e Latifa Ki Ehmiyat
فنون لطیفہ اپنی ذات میں لطافت رکھتے ہیں۔ انھی کے دم سے کائنات میں حسن ہے۔ انسان انھیں اپنے استعمال میں لا کر اپنی ذات کی تہذیب کرتا ہے۔ اس کی نفسیات میں باغ و بہار کی سی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ جیسے سر میں خشکی، سکری پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس کے علاج کے لیے بال چھوٹے کروائے جاتے ہیں، سر میں سرسوں کے تیل کی مالش کی جاتی ہے، اس میں کنگھی پھیر کر بالوں کو ایک خاص ترتیب دی جاتی ہے۔ ایسے ہی برے حالات اور ناآسودہ خواہشات کے باعث انسان میں بیزاری اور تنفر کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، عجیب سی الجھنوں میں بندہ گھر جاتا ہے، تو پھر اس کا علاج فنون لطیفہ کی دنیا میں تلاش کیا جاتا ہے۔
اچھی موسیقی، من پسند گانا، کوئی پیاری سی فلم یا پرلطف ڈراما، کوئی دلکش اور سبق آموز ناول یا کہانی وغیرہ وغیرہ۔ یہ پرلطف فنون انسان کی تہذیب اسی طرح کرتے ہیں، جس طرح ہم بے ہنگم بیل کو تراش خراش کے عمل سے گزار کر خوبصورت بناتے ہیں۔ ایک سلیم الفطرت انسان ان فنون سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ان سے بیزار وہی ہوگا، جس کا مزاج میں وحشت ہے، جس کی طبیعت میں کجی ہے اور جس کا ذوق بے ڈھب ہے۔ آئیے! ایک ایک کرکے ان فنون کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلے شاعری کا جائزہ لیتے ہیں۔ پتوکی کالج میں میرے استاد پروفیسر نور محمد صاحب باہر لان میں چند طلبہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ان میں ایک نو آموز شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنا ایک شعر سنایا:
یہ کیا کیا میں نے اظہار تمنا
وہ تب سے بزم میں بلاتا نہیں ہے
مت رو اے عطش! بے رخی پہ کسی کی
خود گروں کو زمانہ اٹھاتا نہیں ہے
یہ سن نور صاحب بہت مسرور ہوئے۔ اسے کہا کہ "آپ مجھے یہ شعر لکھ کر دیں"۔
ایک عام سے اظہار بے رخی اور خودداری کو اس ایک........
