Badalti Dunya, Ulajhta Insan
بدلتی دنیا، الجھتا انسان
موجودہ دور کو اگر تضادات کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک طرف انسانی ترقی کی رفتار تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی رابطے نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں بدل دیا ہے۔ مگر دوسری طرف انسان پہلے سے زیادہ بے چین، غیر مطمئن اور ذہنی طور پر منتشر دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر حساس ذہن کو جھنجھوڑتا ہے کہ آخر اتنی ترقی کے باوجود انسان سکون سے کیوں محروم ہے؟
اگر ہم معاشرتی سطح پر نظر ڈالیں تو خاندانی نظام، جو ہماری مشرقی تہذیب کا بنیادی ستون تھا، بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی جگہ انفرادی طرزِ زندگی نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی نے جہاں آزادی کا احساس دیا، وہیں تنہائی، عدم تحفظ اور جذباتی خلا کو بھی جنم دیا۔ بزرگ افراد خود کو غیر ضروری محسوس کرتے ہیں جبکہ نوجوان نسل رہنمائی کے فقدان کا شکار ہے۔
تعلیمی میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ تعلیم کا مقصد جہاں کردار سازی اور شعور کی بیداری ہونا چاہیے تھا، وہ اب........
