menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kitab Tehzebon Ki Maa: Ghubar e Khatir (20)

29 0
13.05.2026

کتاب تہذیبوں کی ماں: غبارِ خاطر (20)

برصغیر کی فکری تاریخ میں کچھ ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی محض اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے دل و دماغ کو بھی منور کرتی رہتی ہے۔ انہی چراغوں میں ایک درخشندہ نام مولانا ابو الکلام آزاد کا ہے، جنہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو بھی علم و ادب کی ایک ایسی بزم میں بدل دیا جہاں سے فکر و نظر کے چراغ ہمیشہ کے لیے روشن ہو گئے۔ احمد نگر جیل کی تنہائی میں لکھے گئے ان کے خطوط، جو بعد ازاں غبارِ خاطر کے نام سے مرتب ہوئے، محض خطوط نہیں بلکہ ایک ایسے ذہن کی سرگوشیاں ہیں جو جسمانی قید کے باوجود روحانی اور فکری آزادی کا استعارہ بن چکا تھا۔ عثمان علی ملکانہ کا یہ جملہ کہ کاش مولانا کی اسیری کی مدت اور طویل ہوتی تاکہ ہمیں مزید خطوط نصیب ہوتے، بظاہر ایک عجیب سی خواہش محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں ادب سے گہری محبت اور ان تحریروں کی تاثیر کا اعتراف پوشیدہ ہے۔

یہ ایک انوکھا تضاد ہے کہ انسان جس حالت کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل اور کٹھن دور سمجھتا ہے، وہی حالت بعض اوقات اس کی تخلیقی قوتوں کے عروج کا باعث بن جاتی ہے۔ مولانا آزاد کی قید بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ وہ قید تنہائی........

© Daily Urdu