menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Danishmando Suno

16 0
20.07.2026

دانشمندو سُنو، تمامی عرض فقیر کریندا

آپوں چنگا جے کوئی ہووے، ہر نُوں بھلا تکیندا

ایک دفعہ ہمارے ایک بہت پیارے بولنے اور خوبصورت نظم و نثر لکھنے والے وصی شاہ کو ان کے تجسس نے گدگدایا اور انہوں نے ہمارے ایک اور بہت ہی پیارے بولنے اور لکھنے والے سہیل وڑائچ سے پوچھا: سہیل بھائی ایک بات جاننا چاہتا ہوں پچھلے چند سالوں میں آپ کا لہجہ بھی سخت ہوا ہے، آواز بھی بلند ہوئی ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔

سہیل صاحب نے جواباً عرض فرمایا، یہ اعتراضات ذرہ ملائم شکل میں، مَیں نے پہلے بھی سن رکھے ہیں۔ تو عرض ہے کہ:

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

لیکن پھر بھی ہر صورتِ حال میں خوش دل اور خوش اخلاق رہنا انتہائی ضروری ہے۔

عرض کیا مچھر سپرے والے نے، عطا الحق قاسمی صاحب سے:

ایک دفعہ ایک مچھر سپرے والے نے معروف کالم نگار اور انتہائی خوبصورت حسِ مزاح رکھنے والے، عطا الحق قاسمی صاحب سے کہا:

ابا جی نوں میرا سلام کہنا۔

قاسمی صاحب نے پوچھا کیوں؟

ایک اور جگہ فرماتے ہیں، ایک دفعہ میں نے اخبار میں کچھ لکھا، تو پولیس گھر آ گئی اور پوچھا مولانا عطا الحق قاسمی یہاں رہتے ہیں؟

جواباً عرض کیا جی ہاں۔

مجھے وہ تراشا دکھایا اور کہا گاڑی میں بیٹھ جائیں اور پھر رات اڑھائی بجے کوٹ لکھپت اتار دیا اور میں وہاں سے پیدل گھر آیا۔

ایک اور جگہ اپنی خوش خوارکی کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:

"مجھے کھانے میں ٹنڈے بڑے "ناپسند" ہیں"۔

قاسمی صاحب اپنی خوبصورت حسِ مزاح کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ہی اکثر مرمریں چہروں کو مسکراہٹوں میں نہلا دیتے ہیں اور دل کو پھولوں کی بستی بنا دیتے ہیں۔

اب کچھ "کتاب" کی بات کرتے ہیں: کہا گیا کہ کتاب تہذیبوں کی ماں ہے۔ اس لیے اچھا ذوق رکھنے والے ان سے محض اخذ کرتے ہیں، کیڑے نہیں نکالتے۔ خواہ دو چار کیڑے نظر آ بھی جائیں تو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن کچھ بے ذوق پیشہ ور نقاد محض کیڑے مکوڑوں کی تلاش میں کتابیں پڑھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو بے انصافی کی حد تک عیب جُو اور کچھ بے وقوفی کی حد تک صاف گو ہوتے ہیں۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق تو کیا کلمہ ناحق بھی کہ دیتے ہیں۔

اب کچھ "بسلامت روی" اور اس کے مصنف کرنل محمد خان کی بات کرتے ہیں: ہمارے پیارے خوش ذوق عسکری مزاح نگار کرنل محمد خان کی کتاب "بسلامت روی" پر ایسی ہی عیب جُو اور صاف گو تنقید، کرنل صاحب کو سامنے بٹھا کر کچھ یوں کی گئی۔

"بسلامت روی" لکھ کر تو آپ نے عزت سادات گنوا دی۔ فرمایا گیا آپ کے طرز بیان میں ناروا شوخی بلکہ شرارت ہے، جو فعلِ........

© Daily Urdu