menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tyre Puncture

22 0
05.05.2026

علی سہیل نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی جبکہ خرم فرنٹ پسنجر سیٹ پر اس کے ہمراہ بطور گائیڈ براجمان ہوگیا، پچھلی سیٹوں پر افتی، رانا کاشف اور میں بیٹھ گئے، خرم کی رہنمائی مطابق مختلف راستوں سے گزرتے ایک پٹرول سٹیشن پر رکے، خرم کے بقول "یہ اس راستے پر آخری پٹرول و سروس سٹیشن ہے، یہاں سے گاڑی کا ٹنک فل کروالو ورنہ راستے میں کچھ نہیں ملے گا"۔ پیٹرول کے علاوہ ٹائروں میں ہوا چیک کروائی اور روانہ ہوگئے۔

سڑک کی حالت نارمل تھی، خرم نے بتایا "پہلے یہ سڑک بہت اچھی تھی، کہیں کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، یہاں ٹریفک کم ہوتی ہے اس لئے تعمیر پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، موسم سرما ختم ہونے کے بعد سڑک پر بننے والے گڑھوں کو ایک طرح کا پنکچر لگا کر مرمت کی جاتی ہے، یوں اس سڑک پر سفر کرنا ممکن ہو جاتا ہے"۔ دوران سفر دوست احباب میری کلاس لگاتے رہے اور مذاق اڑاتے رہے جبکہ میں ڈھیٹ بن کر ان کے طعنوں کا سامنا کرنے پر مجبور تھا، کمینوں نے مجھے درمیان میں پھنسا کر بٹھا رکھا تھا۔

آگے سڑک ہموار میسر ہونے باعث ایک گھنٹے میں اسی کیلومیٹر کا فاصلہ طے کر آئے تھے اور امید تھی کی باقیماندہ سفر دو سے اڑھائی گھنٹوں میں طے ہو جائے گا کہ علی سہیل نے بم پھوڑا "اوہ شٹ، ٹائر پنکچر ہوگیا ہے"۔

خرم بولا "پنکچر ٹائر کے ساتھ آگے جانا خطرناک ہے، بعض جگہوں پر انتہائی خطرناک موڑ بھی ہیں"۔ اضافی سٹپنی موجود تھی لیکن اس کے ساتھ لمبا سفر نہیں کر سکتے تھے، خرم کی بات میں منطق تھی، مجبوراً واپس مڑے، ایک دوسرے سے ہماری نوک جھونک جاری تھی، اسی پٹرول سٹیشن پر پہنچے، ٹائر پنکچر والا دکان بند کرکے جا چکا تھا، یورپ و رشیا میں کام کے اوقات مقرر ہیں اور ہر انسان ان پر سختی سے عمل کرتا ہے، ہم کو شہر کی سمت جانا پڑا، ایک سے دوسری جگہ گھومنا شروع کیا........

© Daily Urdu