Tselovat
پہلے ہفتہ کے بعد دوسرا ہفتہ جیسے تیسے حروف تہجی سیکھنے اور صحیح تلفظ کی ادائی میں گزرا، میڈم وکٹوریہ نے کلاس میں بلیک بورڈ پر ایک نیا لفظ لکھا۔
تسی۔ لووات اور اس کا ترجمہ بتایا یعنی انگریزی میں کِس کرنا، ساری کلاس نے یہ لفظ سن کر کان کھڑے کرلئے، لیکن اس کی ادائی کا جو طریقہ میڈم وکٹوریہ نے بتایا، وہ ہم سب کیلئے کٹھن مرحلہ تھا، اس کے پہلے حرف ц تسے کو ادا کرنا جُوئے شِیر لانے مترادف تھا، منہ بند رکھو، دانتوں کو دانتوں کے اوپر تلے جماؤ، "تے" بولو، ت کے اوپر زبر والی آواز اور اس وقت دانت تھوڑے سے کھولو، زبان تالو سے چپکائے رکھو، دانتوں کے درمیان سے ہوا خارج کرتے ہوئے "سے" بولو، اس طرح یہ مکمل "تسے" بولا جاتا تھا۔
گویا اب ہم حصول علم کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکے تھے، پہلے ہفتے کے خوشگوار اختتام پر امتحان منعقد ہوا، اتفاق سے میں فرسٹ آیا، ہلکی پھلکی پارٹی کا اہتمام کیا گیا اور دو دن کی چھٹیاں، حروف تہجی تک کا مرحلہ بخیر و عافیت عبور ہوگیا لیکن بولنے میں دقت پیش آتی تھی اور اٹک اٹک کر بولتا تھا، ہوسٹل میں موجود سینئر سٹوڈنٹس نے بتایا "عصر کے بعد رچکا یعنی دریا کنارے ساحل پر جایا کرو، وہاں بہت لڑکیاں واک کرنے آتی ہیں، ان سے مدد لیا کرو"۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ لڑکی سے ہی کیوں مدد لینی ہے، جس سے بھی وضاحت پوچھی تو ہر کسی نے یہ جواب دیا "جب زبان سے زبان ملے گی تبھی زبان آئے گی"۔
اس نوعیت کا محاورہ پہلی مرتبہ سنا تھا، کوریڈور میں ایک سیانا معظم ڈھلوں ملا، اسے مشکل بتائی تو اس نے یوں رہنمائی کی "زبان ذریعہ اظہار ہے، ایک عدد انگریزی ٹُو رشین ڈکشنری اپنے پاس رکھو، رچکے پر جاؤ، وہاں کسی لڑکی سے دوستی کرو، اس کے ساتھ بات چیت کرو، جب دوستی آگے بڑھے گی اور کچھ کہنا چاہو گے، وہ لفظ ڈکشنری سے مل جائے گا لیکن ٹھیک طرح........
