Sanu Nehr Walay Pul Te Bula Ke
سانوں نہر والے پل تے بلا کے
پاکستان نے دو دن پہلے وہ پل تعمیر کیا ہے جس پر اس صدی کا امن کا ایک بڑا معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ اسلام آباد میں پنچایت سجنے والی ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس پر گڑی ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے، عشروں بعد لمحہ افتخار ہے۔
تاہم، ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ پل صرف ایران، امریکہ، خلیجی ممالک اور پاکستان کے زورآوروں کے کام آئے گا یا اس پر عام عوام بھی چڑھ پائیں گے؟
نیویارک میں 1952 کی ایک رات ہے۔ اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر ایک مراکشی سفارت کار کھڑا ہے۔ اس کا نام احمد بلافریج ہے۔ سلطان محمد پنجم نے اسے بھیجا ہے کہ سلامتی کونسل میں مراکش کی آزادی کا مقدمہ پیش کرے۔ مگر فرانسیسی وفد نے اسے روک دیا ہے۔ دلیل سادہ ہے: مراکش فرانسیسی نوآبادی ہے، بلافریج فرانسیسی رعایا ہے، اسے بولنے کا حق نہیں۔
بلافریج ذلیل ہو کر باہر آیا۔ ایک قوم کی آواز دبا دی گئی۔
پھر ایک فون آیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان نے فوری حکم دیا: پاکستانی سفارت خانہ رات کو ابھی کھولو۔ احمد بلافریج کو پاکستانی شہریت دو۔ پاکستانی پاسپورٹ جاری کرو۔
اگلی صبح احمد بلافریج نے سلامتی کونسل میں تقریر کی۔ مگر اب وہ فرانسیسی رعایا نہیں تھا۔ پاکستانی شہری تھا۔ پاکستانی پاسپورٹ اس کے ہاتھ میں تھا۔ فرانس خاموش ہوگیا۔
1956 میں مراکش آزاد ہوا۔ سلطان محمد پنجم نے احمد بلافریج کو وزیر اعظم بنایا۔ کہتے ہیں کہ بلافریج نے اپنے دفتر میں وہ پاکستانی پاسپورٹ فریم کروا کر وا کر لگایا اور ہر آنے والے مہمان کو فخر سے بتاتا: "اس پاسپورٹ نے مراکش کی آزادی میں کردار ادا کیا"۔ مراکش ورلڈ نیوز نے 2025 میں پاکستانی سفیر سید عادل گیلانی کا بیان شائع کیا جنھوں نے کہا: "فرانسیسی سفیر نے بلافریج کو روکا کہ بول نہیں سکتے اور وہیں اسی لمحے پاکستان نے شہریت اور پاسپورٹ دے دیا"۔
مگر بات صرف مراکش تک نہیں رکی۔ الجزائر کے بانی احمد بن بیلا کو بھی پاکستانی سفارتی پاسپورٹ جاری کیا گیا تاکہ وہ فرانس اور اس کے اتحادیوں کی بین الاقوامی تلاش سے بچ کر سفر کر سکے۔ بن بیلا نے 1980 کی دہائی میں جلاوطنی کے دوران بھی پاکستانی سفارتی پاسپورٹ پر سفر کیا۔ مراکش ورلڈ نیوز نے........
