Haqeeqi Idraak Aur Amli Shukar?
حقیقی ادراک اور عملی شکر؟
شہر کی ایک مشہور و معروف سڑک کے کنارے بیٹھے ایک نابینا لڑکےنے اپنی ٹانگوں کے درمیان ایک ہیٹ رکھ کر قریب ہی ایک چھوٹے سے بورڈ پر لکھ رکھاتھا: "میں بصارت سے محروم ہوں"۔ لوگ اس کی معذوری پر ترس کھا کر اس کے ہیٹ میں سکے ڈال رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر کھڑا ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ نابینا لڑکے کے قریب آیا اور بورڈ پر ایک کاغذ چسپاں کرکے خاموشی سے چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ لڑکے نے محسوس کیا کہ اب ہیٹ میں رقم پہلے سے کہیں زیادہ آرہی ہے۔ تقریباً ہر گزرنے والا شخص رک کرہیٹ میں کچھ نہ کچھ ڈال رہا ہے۔ شام کو وہی شخص دوبارہ آیا تو لڑکے نے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا اور پوچھا: "آپ نے ایسا کیا کیا کہ ہر شخص مجھے پیسے دینے لگا؟"
اس شخص نے جواب دیا: "میں نے تمہاری تحریر کے اوپر یہ جملہ لکھ دیا تھا: "آج کا دن کتنا خوبصورت ہے، مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا"۔ یہ الفاظ لوگوں کے دلوں میں اتر گئے اور انہیں نعمتِ بصارت کا حقیقی احساس ہوگیا۔ اکثر ہمیں اپنے پاس موجود نعمت کا ادراک تب تک نہیں ہوتا، جب تک اس سے محروم کسی شخص کو نہ دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روز بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، مگر ہم میں سے اکثر ان پر غور نہیں کرتے۔ جب کوئی نعمت چھن........
