menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sarmaya Darana Nizam: Tarqi Ya Muashi Adam Masawat Ka Jal

23 0
07.07.2026

سرمایہ دارانہ نظام: ترقی یا معاشی عدم مساوات کا جال

اگر دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے اور غریب دو وقت کی روٹی کے لیے ترسے تو ایسی معیشت کیا واقعی ہی کامیاب کہلائی جاسکتی ہے کیا یہ وہی ملک ہے جسے بنیادی حقوق کے تحفظ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا؟ کیا یہ وہی سرزمین ہے جسے اسلام کے اصولوں سے مزین کرنے کا عزم کیا گیا تھا؟

ایک طرف بلند و بالا عمارتیں، مہنگی گاڑیاں اور اربوں روپے کے کاروبار اور دوسری طرف ایک مزدور جو دن بھر محنت کے باوجود اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتا۔ آخر یہ کیسا نظام ہے جو چند لوگوں کو بے حد امیر اور لاکھوں کو غربت کا شکار بنا دیتا ہے؟"

یہی نظام سرمایہ دارانہ نظام کہلاتا ہے، جو آج پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کی بنیاد بن چکا ہے۔ اس نظام نے جہاں ترقی، صنعت اور کاروبار کو فروغ دیا، وہیں معاشی عدم مساوات اور طبقاتی فرق کو بھی جنم دیا۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ایک ایسا معاشی نظام ہے جس میں ملک کے وسائل، صنعتیں، کاروبار اور سرمایہ زیادہ تر نجی افراد یا کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس نظام میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کاروبار کرے، سرمایہ کاری کرے اور منافع کمائے۔ حکومت کا کردار محدود ہوتا ہے جبکہ منڈی کی قوتیں یعنی طلب اور رسد قیمتوں اور پیداوار کا تعین کرتی ہیں۔ اس نظام میں کامیابی انسان کی محنت، وسائل ذہانت اور سرمائے پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں بعض لوگ بہت زیادہ دولت حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریب طبقہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے اپنے پیداواری وسائل ہوتے ہیں وہ امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور ان کے سائے میں دن رات خون پسینہ ایک کرنے والا والا مزدور غربت کی لکیر سے بھی........

© Daily Urdu