Nange Sar Walon Ki Khair Khabar
ننگے سر والوں کی خیر خبر
"ننگے سر کے متعلق کیا فرماتے ہیں ابونثر؟" شادی کی تقریب تھی۔ اربابِ سخن ایک ہی میز کے گرد براجمان تھے۔ کھانا کھلنے، کے انتظار میں خوش گپیاں جا ری تھیں۔ پہنچتے ہی سلام دُعا سے پہلے سوال سُنا توجاننے کی ضرورت ہی نہیں رہی کہ آج کی خوش گپیوں کا موضوع کیا ہے۔ سو، نشست سنبھالتے ہی عرض کیا: "صاحبو! شرعی فتویٰ چاہیے تو حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن مد ظلہ، العالی سے رجوع لائیے۔ ہمیں تو اُنھوں نے فقط لسانی جوڑ توڑ کانائب مفتی مقرر کیا ہے"۔
"یوں ہے تو یوں ہی سہی۔ روغنی نان توڑنے سے پہلے لسانی جوڑ توڑ ہی سہی!"
انتظار کے صبر آزما لمحات گزارنے کے لیے ایک بے صبرے دوست نے پہلے تجویز پیش کی، پھر فرمایا کہ "فرمائیے!"
اپنا ننگا سر سہلاتے ہوئے فرمایا: "ہم نے اپنے بزرگوں کو، سوائے حالت احرام کے، مجمعِ عام میں کبھی ننگے سر نہیں دیکھا۔ نئی نسل خوش نصیب ہے کہ اس کے بزرگ اس کو اپنا ننگا تو کیا چٹیل سر بھی دکھاتے پھرتے ہیں"۔
یہ بات کہتے ہی بات بڑھ گئی۔ پھرجو بات چلی تو چلتی ہی چلی گئی۔
ہماری تہذیب میں (ٹوپی، بڑے رومال، دستار یا پگڑی سے) سر ڈھانکنا عزت و شرافت کی علامت جانا جاتا ہے۔ آج بھی ہمارے ملک کے مختلف خطوں میں مقامی معززین اپنے ہاں آنے والے معزز مہمانوں کے سر پر ٹوپی رکھتے یاپگڑی پہناتے ہیں۔ یہ رسم مہمان کو اعلیٰ ترین اعزاز دینے کی علامت مانی جاتی ہے۔ خود ٹوپی یا پگڑی بھی عزت ہی کی علامت ہے۔ یہی وجہ سے کہ محاوروں ہی میں نہیں فلموں میں بھی کسی کے سامنے اپنے آپ کو حقیر ثابت کرنے کے لیے یا کسی سے فریاد کرنے کے واسطے فریادی اپنی (قراقلی) ٹوپی یا کلاہ والی پگ، اُتار کر اُس کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔
میر تقی میرؔ اپنے پُر آشوب دور میں اپنے آپ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے:
میرؔ صاحب! زمانہ نازک ہے دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
اس شعر سے یہ بھی اندازہ ہوتا........
