Mian, Tum Siasat Na Karo, Masjid Mein Baitho Aur Allah Allah Karo
میاں، تم سیاست نہ کرو، مسجد میں بیٹھو اور اللہ اللہ کرو
صاحبو! لفظ "سیاست" بھی اب ہوتے ہوتے اُن الفاظ میں شامل ہوتا جارہا ہے جن کے معنی و مفاہیم امتدادِ زمانہ سے اُلٹ گئے ہیں۔ ہمارے ملک کے نام نہاد، سیاست دانوں کی نظر میں سیاست ایسی چیز ہے جو فریقِ مخالف کرے تو بہت ہی بُری چیز ہوتی ہے۔
یہاں ہم احتیاطاً نام نہاد، کے معنی بھی بتاتے چلیں۔ یہ کوئی بُرا کلمہ نہیں ہے، بلکہ اچھا بننے کی تلقین کرنے والا کلمہ ہے۔ نہاد، کے معنی ہیں سرشت، مزاج، طبیعت، خلقت، عادت وغیرہ۔ اچھی طبیعت اور اچھی طینت رکھنے والے لوگ نیک نہاد، ہوتے ہیں اور اس کے برعکس عادت و مزاج رکھنے والے بد نہاد۔ نام نہاد، سے مراد وہ ہے جو اس نام سے موسوم ہو، جو اِس نام کا ہو اور جو بس نام ہی کا ہو، کام کا نہ ہو۔
اب اِس قسم کے فقرے خود سیاست دانوں، کی زبان سے سن کر سوچنا پڑتا ہے کہ ان نصیحتوں پر لوگ ہنسیں یا روئیں؟ فرماتے ہیں: "قومی مفاد پر سیاست نہ کی جائے"، "ملکی حالات پر سیاست نہ کی جائے" اور "عوامی مفادات پر سیاست نہ کی جائے"۔
بھائی! پھر کس بات پر سیاست کی جائے؟ اور اگر سیاست ایسی ہی"لعنتی" چیز ہے، تو سائیں! پھر سیاست کی ہی کیوں جائے؟ تم بھی گھر بیٹھ کے، اللہ ہی اللہ کیا کرو، دُکھ نہ کسی کو دیا کرو۔
عرض ہم یہ کررہے تھے کہ نام نہاد سیاست دانوں کی نظر میں اب سیاست، کے معنی ہیں: ریشہ دوانی، جوڑ توڑ، چال بازی، جائزو ناجائز ہر طریقے سے حصولِ اقتدار، تحفظِ مفادات، ہوس کی امیری، ہوس کی وزیری، دھوکا، فریب، جھوٹ، سازش اور مکارانہ طور طریقے۔
ستم تو یہ ہے کہ سیاست کا یہ تصور اب اُن لوگوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوگیا ہے، جن سے ایسی توقع نہیں تھی۔ برسوں پہلے (بلکہ پچھلی صدی) کی بات ہے، کالم نگار نے ایک نہایت سنجیدہ، بُردبار، دِین........
