Dayar e Rustam Pe Rustam Ka Qadam
دیار رستم پہ رستم کا قدم
معروف تجزیہ نگار چک کافلن کا کہنا ہے کہ "ملک کا ایک حصہ ٹرمپ اقدامات کے سخت خلاف ہے مجھے لگتا ہے کہ اس کی سیاسی قیمت انہیں ادا کرنا پڑے گی"۔ امریکہ کی سپر پاور کا زعم اور اس کا دبدبہ ختم نہیں تو کم کرانے میں نیتن یاہو اور متعصب امریکی وزیر جنگ کا کردار امریکی فراموش نہیں کریں گے کہ اس سے دنیا نے طاقت، گھمنڈ اور تکبر کو فارس کے سمندر اور ایران کے ریگستان میں زمیں بوس ہوتا دیکھا۔
یہ سفارت کاری اس وقت شروع ہوئی جب جنیوا سے ماسکو تک اور لندن سے بیجنگ تک ہر سو خاموشی اور دنیا خوف و حیرت کے ملے جلے جذبات سے امریکہ کی طاقت و ایران کی مزاحمت کا رنگ دیکھ رہی تھی۔ گو کہ بڑی طاقتوں کو سفارت کاری کا جوش بھی تھا اور شوق بھی مگر ایک طرف متلون و جارح مزاج ٹرمپ تو دوسری طرف ایران، کہ جس کی صف اول کی قیادت تہہ مزار اور پس ماندگان کا غصہ جنون کی حد تک۔
ایک سمت بارود تو دوسری طرف خون کی ندیاں تھی۔ ایسے میں امن کے متلاشی جرنیل نے زمانہ جنگ میں رستم کی زمین پر بڑے طمطراق سے قدم رکھا جہاز کی سیڑھیاں اترتے سپہ سالار کی دل آویز مسکراہٹ یقیناََ کروڑوں پر بجلی بن کر گری اور میزبان کا والہانہ اظہار محبت در اصل اظہار عقیدت تھا سپہ سالار کے لیے، پاکستان کے لیے اور اہل پاکستان کے لیے۔ ایسے وقت میں کہ جب ایران کی کم و بیش ساری قیادت زیر........
