menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sanday Ka Tail

26 0
18.07.2026

گئے زمانوں کی بات ہے۔ شاید آج بھی کسی چھوٹے شہر، قصبے یا پرانے بازار میں سانڈے کا تیل بیچنے والا کہیں نہ کہیں اپنی سائیکل کھڑی کرتا ہو۔ مجھے تو مدت ہوئی ایسا تماشا دیکھے ہوئے۔ وہ آتا، سائیکل اسٹینڈ پر لگاتا، زمین پر ایک چادر بچھاتا اور اس پر چند ٹوکریاں سجا دیتا۔ پھر ان ٹوکریوں سے زندہ سانڈے نکال کر قطار سے بٹھا دیتا۔ ساتھ ہی تیل کی شیشیاں سج جاتیں۔ چار دیواری کے بغیر ایک مکمل دکان آباد ہو جاتی لیکن اس کی اصل دکان تو لوگوں کے ذہنوں میں کھلتی تھی۔ جونہی چند لوگ اسے دیکھ کر رکتے، وہ فوراً مجمع بنانے کا فن شروع کر دیتا۔ زمین پر فحش رسالوں کے چند اوراق بھی پھیلا دیتا۔ وہی اوراق جنہیں دیکھنے کی اخلاقی اجازت کسی کے پاس نہیں ہوتی تھی مگر نظریں سب کی وہیں جمی ہوتی تھیں۔ چند لمحوں میں دائرہ بن جاتا، سانڈے بے حرکت پڑے رہتے اور تماشائیوں کی دھڑکنیں حرکت میں آ جاتیں۔

پھر وہ اعلان کرتا کہ آج سب سے آخر میں دنیا کا سب سے خطرناک سانپ دکھایا جائے گا۔ صرف سانپ ہی نہیں، اس کا منکا بھی۔ ایسا منکا جسے دودھ میں بھگو کر پی........

© Daily Urdu (Blogs)