Hujra e Zaat Mein Sannata He Aisa Hai
حجرۂ ذات میں سنّاٹا ہی ایسا ہے
بوجوہ خرابئی صحت پچھلے سترہ سالوں میں پہلی بار یوں ہو رہا ہے کہ میں خزاں موسم میں پاکستان کے شمال کے دورے سے معذور ہوں۔ شمال میں خزاں کا موسم میرا عشق ہے۔ شمال میں خزاں اُترے تو لوگوں کے دلوں تک سرایت کرتی جاتی ہے۔۔ اداس بچے، گم صم بزرگ، سنجیدہ مزاجی سارے لینڈ اسکیپ پر چھائی نظر آتی ہے۔ صرف ہوا ہے جو تیز رو ہے جس کی کاٹ سے شجر و ہجر کو امان نہیں۔ پہاڑوں پر خزاں کا موسم میرے مزاج سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھے خزاں ہر سال بلاتی رہی ہے۔ خزاں کا موسم ایک طرح سے انتشار کا موسم ہے۔ تعلق کے ختم ہونے کا موسم، شجر سے پتے کا رابطہ ٹوٹے تو لڑکھڑاتا زمین پر آتا ہے۔ ایک آوارہ گرد کو ٹوٹے پتے کا دکھ سانجھا لگنے لگتا ہے۔
گھروں میں داخل ہونے والوں کے لباس پر خشک پتے، کھڈوں اور نالوں کے پانیوں کے کنارے ٹھہرے کیسری براؤن پتے، بچوں کے بستروں کے اندر باہر پتے، سڑکوں پر سسکتے، سرسراتے چھوٹے بڑے خشک پتے۔ کھڑکیوں اور جالیوں میں اٹکے پتے، بجلی کی تاروں پر ٹنگے ہوئے اور گیلے کپڑوں سے لپٹے پتے۔ چنتا کا موسم، ہراساں سی کیفیت، بادلوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کا بھی ایک رنگ آتا اور جاتا ہے۔........
