Lahu Se Likhi Dastan
بنگلہ دیشی سیاست کے افق پر گزشتہ سترہ برس بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے لیے کسی بھیانک اور لرزہ خیز ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔ یہ دور جبر و استبداد کی ایسی سیاہ داستان ہے جس کا ہر ورق بے گناہ کارکنوں کے خون اور مظلوموں کی آہوں سے لبریز ہے۔ اس طویل عرصے میں جماعت کی قیادت اور کارکنان کو پابند سلاسل کیا گیا اور ان پر سیاسی انتقام کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ انسانیت بھی پکار اٹھی۔
بی این پی کے ہزاروں جیالوں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا گیا اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ان کی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ بے بنیاد مقدمات کی بوچھاڑ نے بیگم خالدہ ضیا جیسی قدآور شخصیت کو بھی قید و تنہائی کی اذیت جھیلنے پر مجبور کر دیا جہاں بنیادی طبی سہولیات سے محرومی ان کے عزم کو توڑنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ اس پر آشوب دور کے پیچھے پڑوسی ملک ہندوستان کے سٹریٹجک مفادات بھی پوشیدہ تھے جس نے خطے میں اپنی گرفت مضبوط رکھنے اور ٹرانزٹ کے حقوق سمیت معاشی فوائد کے حصول کے لیے عوامی لیگ کی آمریت کو آکسیجن فراہم کی۔ یہ سترہ سال بی این پی کے لیے ایک ایسی مقتل گاہ ثابت ہوئے جہاں ہر موڑ پر آنسوؤں اور سسکیوں کا پہرہ تھا اور انصاف کا سورج اقتدار کی ہوس تلے پوری طرح گہنا چکا تھا۔
بیگم خالدہ ضیا کی جدوجہد محض اقتدار کی طلب نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی سالمیت اور جمہوریت کی بقا کے لیے دی جانے والی ایک عظیم قربانی ہے سترہ سالہ طویل جبر کے دوران وہ ایک ایسی آہنی خاتون بن کر ابھریں جنہوں نے علالت، قید اور تنہائی کے جان لیوا کرب کو تو جھیلا مگر اپنے........
