Hamari Faryad Kab Suni Jaye Gi?
ہماری فریاد کب سنی جائیگی؟
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
شاعر مشرق، حکیم الامت، مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ کے اس شعر پہ زرا غور کیجئے اس میں جو پیغام ہے وہ اتنا ہی تازہ ہے جتنا ایک صدی پہلے تھا اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ہمت اور اختیار عطا کیا ہے، لیکن جب تک کوئی قوم خود اپنی اصلاح، اتحاد اور اپنے مسائل کے حل کے لیے قدم نہیں اٹھاتی، اس وقت تک محض دعاؤں، شکایتوں اور دوسروں کے انتظار سے حالات نہیں بدلتے۔۔
جب یہ شعر ذہن میں آیا تو بے اختیار نگاہیں پڑی بنگلہ کے حالات پر ٹھہر گئی۔۔
آج اگر کسی نے پڑی بنگلہ کی کیفیت کو قریب سے دیکھا ہو تو وہ جان لے گا کہ اس علاقے کو ہر سمت سے مسائل نے ایسے گھیرے ہیں کہ جیسے پہلے........
