menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taab e Hijraan Nadaram

21 0
20.05.2026

کچھ تو ایسا ضرور ہے جو میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں، کچھ ایسا جو میرے ادراک سے پرے ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق مگر وجود میں کہیں ایسی چبھن جو کانٹا نکلنے کے باوجود بھی آپ کو چین سے نہیں رہنے دیتی۔

میری زندگی کی شروعات قحبہ خانے سے بھی بدتر جگہ پر ہوئی۔ قحبہ خانوں کا اچھا پہلو کہ وہاں نسلِ نو پر پابندی ہوتی ہے جبکہ میں جہاں جنما وہاں ہماری ماؤں کا نصیب جنّا اور متواتر جنّتے چلے جانا اور مر جانا ہوتا۔ یہ کوکھ کا چلتا ہوا دھندا ہے مگر یقین مانیے بڑا ہی گندا اور جان لیوا۔ سو میں بتا رہا تھا کہ میں اسی مذبح خانے کی پیداوار ہوں۔

مجھے زندگی کی سمجھ کب تھی کہ بچپن ان باتوں سے مطلق لاپروا۔ جلد ہی میری اونچی ذات کے سبب میرا سودا ہوگیا۔ میرا مالک خوش کہ اسے میری قیمت بہت اچھی ملی اور میں یوں شاداں کہ میرا نیا مالک دنیا کا مہربان ترین انسان اور میرا نیا گھر دنیا کا آسودہ اور محفوظ ترین گھر۔ وہ ایک شفیق چھوٹی سی فیملی تھی۔ دراصل جب اس خوش باش جوڑے کے گھر پہلی ولادت ہوئی تو یہاں کے مروجہ معاشرتی دستور کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے لیمار کی دوسراہٹ کے لیے مجھے گود لیا۔ میرا نام اوسکر رکھا گیا۔ میں اور لیمار ساتھ ساتھ پلتے، بڑھتے رہے مگر میں لیمار سے بہت جلدی بڑا ہوگیا تھا۔ شروع ہی سے لیمار کو ڈے کئیر اور مجھے میرے کئیر سنٹر چھوڑا جاتا کہ مم اور ڈیڈ دونوں ہی گھر کی چکی کے دو پاٹ، معاشی جدوجہد کے متحرک پرزے۔ کئیر سنٹر میں ہر طرح کے کھیل کود اور دوستوں کے باوجود میں separation anxiety کا شکار تھا۔ جانے کیوں مگر ہر طرح کی سہولیات کے ہوتے ہوئے بھی میں اپنے ڈے کئیر میں خوش نہیں رہ پاتا تھا۔ ہفتے میں دو دن، مم، ڈیڈ کام پر نہیں جاتے تھے اور ہفتے بھر میں وہی دو دن میرا حاصل زیست ٹھہرتے۔ میں ان دونوں اور لیمار کی کمپنی بہت انجوائے کرتا تھا۔

لیمار بڑا ہوا تو اس کا اسکول شروع ہوگیا۔ صبح سویرے اس کی لمبی سی پیلی بس گلی کی نکڑ پر آں رکتی۔ میں، ممی کے ساتھ ہنسی خوشی، اچھلتا کودتا لیمار کو بس تک چھوڑنے جاتا۔ پینتالیس منٹ بعد ممی بھی کام پر نکل جاتیں۔ ڈیڈی تو صبح سویر ہی اپنی آفس کے لیے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ ان سب کے جانے کے بعد میں دھنڈر پڑے گھر میں بے چین روح کی طرح منڈلایا کرتا۔ بھلا ہو ڈیڈ کا کہ انہوں نے بیک یارڈ کے دروازے میں میرے لیے چھوٹا سا دروازہ نکال دیا تھا۔ میں پچھلے باغیچے میں کبھی تتلی تو کبھی گلہری کے پیچھے بھاگتا یا پھر اپنی ہی پھینکی گئی گیند سے خود کو بہلاتا رہتا۔ کبھی کبھی گھر کی چھوٹی سی فنس پر اپنے اگلے دو پنجے رکھ کر پڑوس میں بھی جھانکتا۔ ہماری پڑوسی مسز رابنسن، ایک شفیق عورت تھیں۔ وہ اکثر اپنا لاغر وجود سنبھالے، اپنی لان چئیر سے اٹھ کر ہولے ہولے چلتی ہوئی فنس تک آتیں اور میرے سر پر اپنا دست شفقت رکھتی۔ مسز رابنسن کبھی کبھی مجھے ہاٹ ڈاگ بھی دیا کرتی تھیں۔ ایک شام ان کے دروازے پر روشنیوں کے تیز تر جھماکے تھے۔ وہاں بیک وقت پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس، سب کے سب........

© Daily Urdu (Blogs)