menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Kashti e Nooh Nahi

35 0
29.09.2026

آج کل عالمی اور سوشل میڈیا میں یہ خبر ایک بار پھر بڑی شدت سے گردش کر رہی ہے کہ ترکی کے علاقے دروپنار (کوہِ اراراط کے قریب) میں حضرت نوحؑ کی تاریخی کشتی کے آثار مل گئے ہیں۔ میڈیا پر دکھائی جانے والی تصاویر میں ایک بیضوی اور کشتی کی شکل کا چٹانی ابھار نظر آتا ہے، جس کی بنیاد پر بائبل کی روایات کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ نوحؑ کی وہی کشتی ہے جو طوفان کے بعد اراراط کے پہاڑ پر جا لگی تھی۔

ذیل میں اس خبر، سائنسی حقائق، بائبل کی ٹائم لائن کی غلط فہمیوں، عقلی قیاس اور ارضیاتی تاریخ کا سوال و جواب کی صورت میں تفصیلی تجزیہ پیش ہے:

سوال 1: دنیا بھر میں طوفانِ نوح کی قدامت کے بارے میں سب سے بڑی کنفیوژن کیا ہے اور بائبل کی ٹائم لائن کے بارے میں سائنسی و جدید دینی رائے کیا ہے؟

جواب (تاریخی و سائنسی حقیقت):

طوفانِ نوح کے ٹائم فریم کے بارے میں دنیا بھر میں سب سے بڑی کنفیوژن اور غلط فہمی بائبل کی روایتی کرونولوجی نے پھیلائی ہے۔ بائبل (عہدِ نامہ عتیق) کے روایتی شجروں اور حساب کے مطابق طوفانِ نوح کا واقعہ آج سے بمشکل 4,200 سے 4,500 سال قبل کا بتایا جاتا ہے۔ یہ ٹائم لائن انتہائی مختصر ہے جس پر زمینی اثرات، ارضیاتی سائنس اور انسانی تاریخ کے کوئی شواہد پورا نہیں اترتے۔ اس دور میں مصر، میسوپوٹیمیا اور وادیِ سندھ کی عظیم الشان شہری تہذیبیں اپنے عروج پر تھیں اور ان کے تاریخی تسلسل میں کسی عالمگیر طوفان یا انقطاع کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج خود عیسائی دنیا کا ایک بڑا طبقہ، جدید عیسائی سائنسدان اور بائبلیکل سکالرز بھی بائبل کی اس لفظی اور مختصر ٹائم لائن کو یکسر رد کر چکے ہیں اور اسے صرف ایک روایتی گنتی تسلیم کرتے ہیں۔

سوال 2: کیا 4,500 سے 5,000 سال کے عرصے میں کھلی ہوا اور پہاڑ کی چوٹی پر پڑی لکڑی کا پتھر (فوسل) بن جانا سائنسی طور پر ممکن ہے؟

سائنسی نقطہ نظر سے کھلی ہوا، دھوپ، بارش اور آکسیجن کی موجودگی میں پڑی لکڑی کبھی فوسل نہیں بن سکتی، وہ بمشکل چند دہائیوں میں گل سڑ کر ختم ہو جاتی ہے۔ لکڑی کا پتھر بننے کے لیے سائنس کا قانون یہ ہے کہ وہ آکسیجن سے محروم ماحول میں، زمین کی کافی گہرائی میں کیچڑ یا آتش فشانی راکھ کے نیچے فوری طور پر دبی ہو اور وہاں ہزاروں سال تک معدنیاتی پانی گردش کرے۔ لہٰذا 5,000 سال پرانی لکڑی کا پہاڑ کی چوٹی پر کھلے آسمان تلے سالم فوسل بن جانا سائنسی طور پر بالکل ناممکن ہے۔

سوال 3: تصویر میں دکھائی جانے والی ساخت کی سائنسی اور ساختاتی حقیقت کیا ہے؟

ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور جیولوجسٹس نے جب اس سائٹ کا گراؤنڈ پینیٹریٹنگ رڈار اور ڈرلنگ کے ذریعے سائنسی معائنہ کیا، تو وہاں لکڑی کا کوئی فریم، تختے یا شہتیر نہیں ملے۔ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف چٹانوں (بسالٹ یا چونا پتھر) اور مٹی کا ایک قدرتی مجموعہ ہے جو مٹی کے کھسکنے (لینڈ سلائیڈ) اور زلزلے کے باعث اتفاقاً کشتی نما شکل کا بن گیا ہے۔ اتنی زیادہ........

© Daily Urdu (Blogs)