Rasool Ka Wasi e Barhaq, Apno Mein Ajnabi o Ghareeb (2)
رسول ﷺ کا وصیِ برحقؑ، اپنوں میں اجنبی و غریب (2)
آپ نے اُس وقت کا تصور کیا جب پیغمبرِ خدا ﷺ آپؑ سے فرما رہے تھے۔ اے علیؑ! خدا نے تمہیں اس زینت و آرائش سے آراستہ کیا ہے جو اس کے نزدیک سب سے بڑی زینت تھی، تمھیں خداوندِ عالم نے فقیروں کمزوروں کی محبت بخشی وہ تمھیں اپنا امام بنانے پر راضی اور تم انھیں اپنا پیرودیکھ کر خوش۔
پھر آپ نے پیغمبر ﷺکی رحلت کا وقت یاد کیا جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوئی، پیغمبرِ اکرمﷺ نے اپنی آخری نگاہ آپ کے چہرہ پر کی اور اپنی آنکھیں بند کرلیں، فاطمہ زہراؑ کا وہ بے پناہ حزن و اندوہ یاد کیا کہ وہ باپ کے مرنے کے بعد چالیس روز کے اندر ہی گھل گھل کر مر گئیں جبکہ آپ کی عمر 30 برس سے زیادہ کی نہ تھی۔ (محققینِ علمائے امامیہ کا مسلک یہ ہے کہ جناب سیدہؑ کی عمر بوقتِ وفات 18 سال کی تھی اور آپ نے پدر عالیمقدار کے مرنے کے 75 یا 95 دن کے بعد دنیا سے رحلت کی۔) آپ نے سیدہؑ کو سپردِ لحد کیا اور انتہائی حرقتِ قلب سے گریہ کناں ہوئے، سیدہ فاطمہؑ کو سپردِ لحد کرکے شب میں جب آپ گھر واپس آئے تو دائمی رنج و اندوہ لے کر پلٹے، فرطِ الم سے حالت غیر اور آنکھوں سے نیند اڑی ہوئی تھی۔
آپ نے تمام صحابہ کی صورتیں یاد کیں جو یہ فقرہ ہر وقت دہراتے رہتے کہ: کنّا نعرفُ المنافقین فی عہد رسول اللہﷺ الا ببغض علیؑ۔
"عہدِ پیغمبرﷺ میں ہم منافقوں کو ان کی علیؑ سے دشمنی سے پہچانا کرتے تھے"۔
پیغمبر خدا ﷺنے ایک مرتبہ نہیں بار بار فرمایا تھا یا علی لایبغضک الا منافق: اے علیؑ! تم کو منافق ہی دشمن رکھے گا۔
انہی لمحوں میں آپ نے اپنے جہاد کے رفقاء و انصار کو یاد کیا جو پیغمبرﷺ کی زندگی میں باہم متفق تھے، ایک دوسرے کے مددگار تھے، علیؑ اور پیغمبرﷺ کے سایہ میں انہوں نے رشتہ برادری استوار کر رکھا تھا، آج انہیں میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ تھے کچھ مخالف، کچھ لوگوں نے حکومت کی طمع کی جن میں بعض اپنی طمع کی بدولت موت سے ہمکنار ہوئے، کچھ ابھی بقیدِ حیات تھے۔ وہ پاک طینت اصحاب جو وفادارِ حق و عدالت کے حمایتی اور نیکیوں کا قول و قرار کئے ہوئے تھے، خداوندِ عالم ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کہ وہ اس دنیا میں اجنبی و بیگانہ تھے، انہوں نے عدل و وفاداری کی راہ میں اپنی جان قربان کر دی اور دشمنوں کے جور و ستم نے انہیں زمین کی گہرائیوں میں پوشیدہ کر دیا۔
ابوذر غفاریؓ پیغمبراکرم ﷺ کے بزرگ ترین صحابی جن سے زندگی کی ذلت و اہانت برداشت نہ ہو سکی اور وہ اسکے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، وہ معزز ترین انسان جن کی حق پرستی کی وجہ سے علیؑ کے سوا ان کا کوئی دوست نہ رہا، کتنا اندوہناک انجام اُن کا ہوا۔ علیؑ نے اس وقت کا تصور کیا جب ابوذر اپنی پھٹی پرانی عبا پہنے پیغمبرﷺ کی خدمت میں پہنچے اور ہر خدمت کیلئے اپنے کو پیش کیا، اسی وقت سے وہ جی جان سے حق کے سرگرم حمایتی رہے یہاں تک کہ انہوں نے عہدِ عثمان میں مظلوموں و محرومین کی خاطر سارے بنی امیہ کے خلاف محاذ قائم کر دیا۔ پھر حضرت عثمانؓ اور مروان بن حکم کے ہاتھوں ان کا وہ اندوہناک انجام۔ مدینہ سے جلا وطنی اور ربذہ ایسے بے آب و گیاہ مقام پر ان کی بیکسی کی موت وہ بھی ایسے عالم میں کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر ختم ہوگئی۔ ان کی بیکس و لاچار رفیقۂ حیات اپنی آنکھوں سے انہیں مرتے دیکھ رہی تھی اور دعائیں مانگ رہی تھی کہ ابوذرؓ سے پہلے میں مر جاؤں، ابوذرؓ کی مفارقت کا صدمہ مجھے اٹھانا نہ پڑے کہ کس طرح میری موت دہری موت ہوگی۔ ابوذرؓ بنی امیہ کے ہاتھوں نانِ شبینہ کو محتاج رہ کر بھوک سے مر گئے درآنحالیکہ بنی امیہ کے قدموں میں زمین کی ساری دولت تھی۔
ایسی ہی رات میں چند دن پہلے علیؑ کے رفیق، جاں نثار بلکہ ان کے متقی و پرہیز گار اور دکھ اٹھائے ہوئے بھائی عمار یاسرؓ شہید ہوئے، اُن کو باغی جماعت اور جفا پیشہ لوگوں نے صفین کی لڑائی میں شہید کیا تھا۔ ہاں آج کہاں تھے علیؑ کے وہ برادرانِ جاں نثار جنہوں نے اپنا راستہ اختیار کیا جو حق پر تھے اور راستی پر جنہوں نے باہم عہد و پیمان کیا تھا۔ وہ نہ فضول گفتگو کرتے نہ کسی کی غیبت سے زبان آلودہ کرتے اور نہ مکر و فریب سے کام لیتے کہاں تھے آج وہ نیکو کار مردم! وہ سب کے سب رخصت ہو چکے تھے، ظلم و ستم اور ظالم و جفا پیشہ افراد سے خونیں جنگ اور ہولناک لڑائی لڑنے کے لیے صرف علیؑ باقی بچ رہے تھے۔ اگر خداوندِ عالم علیؑ کو باغیوں پر قدرت عنایت کرتا تو وہ ان کا نام و نشان مٹا کر خاک کر دیتے اور باغیوں کو پھونک کر ان کی راکھ ہوا میں اڑا دیتے۔ یہ ایسی جنگ تھی جس میں حق ایک طرف یکہ و تنہا تھا جبکہ اس کے بیشمار اعوان و انصار رہ چکے تھے۔
ایسی جنگ جس میں آپ سے وہ قوم برسرِ پیکار تھی جس کے بچے گمراہ تھے، جس کے جوان قاتل تھے اور جن کے بوڑھے نہ امر بالمعروف کے خوگر نہ نہی عن المنکرکے عادی۔ وہ قوم جو صرف اسی شخص سے خائف تھی جس کی زبان سے اسے خوف ہوتا اور صرف اسی کی عزت کرتی جس سے کچھ ملنے ملانےکی امید ہوتی۔ اگر آپ انہیں چھوڑ بھی دیتے تو وہ آپ کو نہیں چھوڑتے اور اگر آپ ان کا پیچھا کرتے تو وہ ناگہانی طور پر آپ پر حملہ کر بیٹھتے۔ وہ گمراہی پر ایک دوسرے کے ساتھی تھے اور جب جدا ہوتے تو ایک دوسرے کی مذمت کرتا۔
وہ ہولناک جنگ جس کے لیے علیؑ کو اُن کی مرضی کے خلاف مجبور کیا گیا موجِ دریا کے مانند تھی جسے کسی کے ڈوبنے کی پرواہ نہیں ہوتی اور اس چنگاری کے مانند تھی جو خس و خاشاک پر جا پڑی ہو اور جسے جلانے اور جلا کر راکھ کر دینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا۔
یہ جنگ تھی علیؑ کے درمیان جو دنیا کی نعمتیں اور آسائشیں دوسروں کے لیے چاہتے تھے اور ان لوگوں کے درمیان جو رعیت کو سرسبز اور مرغزار زمینوں سے نکال کر بنجر، بے آب گیاہ اور بادِ سموم میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ ہائے کیا زندگی تھی علیؑ کی جو یا تو جہاد کرتے گزری یا مصائب و آلام جھیلتے کٹی۔ ہائے وہ کیسے کیسے نیکو کار اور درست کردار لوگ دنیا میں تھے جو ایک ایک کرکے اٹھ گئے اور علیؑ کو تنہا چھوڑ گئے۔ ان کے اٹھ جانے کے بعد ظلم و ستم کا بازار گرم ہوگیا اور جور و جفا سے دنیا بھر گئی۔
اس مردِ بیمثیل و نظیر اور غریب و اجنبی نے آنے والے کل کے دن کا تصور کیا جس کی تاریکی ناداروں کی راتوں کی تاریکی سے بڑھ کر دیر پا اور جو بد عہدوں کے ضمیروں سے زیادہ سرد ہوگا۔ جو اپنے بھاری بوجھ سے بد بختوں کو چھاپ لےگا۔
وہ کل کا دن جس میں رعایا کی ان لوگوں کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی جو مکر و فریب سے کام لے کر خود سے لوگوں کے حاکم بن بیٹھیں گے۔ ان خود ساختہ حاکموں کے یہاں تقرب بس انھی لوگوں کو نصیب ہوگا جو چغل خور ہوں مکر و فریب کے پلے ہوں اور پکے فسادی ہوں۔ جس دن کہ صرف ظالم و جفا پیشہ افراد سردار بنائے جائیں گے اور امن و چین کی زندگی وہی بسر کر سکے گا جو بے حیا، کمینہ اور حمیت و غیرت کی حرارت سے بالکل خالی ہوگا۔
کل کا دن ہائے وہ بے غیرتی کا دن جس کا علیؑ اپنے قلب و عقل سے تصور کر رہے تھے۔ اب رات کے بعد کوئی بھی بڑا آدمی صدق کو مضر سمجھ کر کذب پر ترجیح نہ دے گا جبکہ کذب سے اسے فائدہ پہنچنے کی امید ہو۔ اب رات کے بعد کوئی ایسا حاکم نہ ہوگا جو لوگوں کے لیے نمونہ بن سکے، جو باطل کی لذتوں کے مقابلے میں حق کے مصائب و آلام کو دوست رکھتا ہو۔ اب رات کے بعد ایسے قلب و عقل کا وجود نہ رہے گا جو خلائق کے ساتھ عادلانہ برتاؤ کریں حق پر عمل پیرا ہوں چاہے پہاڑوں کو زلزلہ آ جائے اور زمین کا سینہ شق ہو جائے۔
کل کا دن ہائے کل کا دن جب نادان ظلم و ستم کی انتہا پر اتر آئیں گے یہاں تک کہ مغرور و سرکش بادشاہ آ جائے اور شریف انسان ظالموں کے مظالم کی بیخ کنی کرتے ہوئے تباہی و بربادی اور موت سے ہمکنار ہو جائے گا۔
امیر المومنینؑ نے اپنی ریشِ مبارک پر ہاتھ مارا اور دیر تک روتے رہے۔
آپ نےآسمان کی طرف نظر کی اور خیمہِ فلک کے زرد پڑتے چاند اور ٹمٹاتے ستاروں کو اس تاریک شب میں دیکھا کہ ان کے عکس سرمایہ داروں کے اونچے اونچے محلات پر پڑرہےہیں اسی طرح فقیروں کی جھونپڑیوں پر بھی اور جس طرح فتنہ و فساد برپا کرنے والوں کے فتنہ و فساد کو اپنی تاریکیوں میں چھپائے ہوئے ہیں اسی طرح نیکوکاروں کے مصائب و آلام کو بھی۔ آپ نے دنیا پر اپنے چشمِ دل سے نظر کی اور فرمایا: "اے دنیا میرے علاوہ کسی اور کو فریب دینا"۔
وقت پر وقت گزرتا گیا اور رات تاریک سے تاریک ہوتی گئی علی ابن ابی طالبؑ نے محسوس کیا کہ وہ اس دنیا میں کیوں تنہا ہو گئے ہیں۔ ہائے زمین کیسی تنہائی کا گھر وحشت کی جگہ اور اجنبی و بیگانہ منزل ہے۔
آپ کو تھوڑی دیر کے لیے نیند آگئی گویا جتنے خیالات آپ کے دل میں گزرے تھے اس ہولناک تاریک شب میں آپ کی آنکھیں ان خیالات کو اپنے اندر سموئے تھیں زیادہ دیر آنکھ لگے نہ گزری تھی کہ آپ نے پیغمبرِ خداﷺ کو خواب میں دیکھا آپؑ نے فرمایا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آپ کی امت والوں کی طرف سے کیسے کیسے مصائب و آلام جھیلے کیسے کیسے اختلافات و نزاع کا مجھے ان کی طرف سے سامنا کرنا پڑا۔ پیغمبرِ خدا ﷺ نے فرمایا: ان پر بد دعا کرو۔ آپؑ نے فرمایا: خداوندا! مجھے ان لوگوں کے بدلے بہترین مصاحب عنایت فرما اور میرے بدلے بدترین حاکم ان پر مسلط کر۔
اُسی رات کی صبح سبک رفتار ہوائیں چل رہی تھیں اور آسمان قطرہ ہائے اشک برسا رہا تھا، علی ابن ابی طالبؑ آہستہ آہستہ سے مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ گویا آپ کے قدم زمین سے ہم کلام اور ان اندو ہ گیں لمحات کی سرگزشت بیان کر رہے تھے، طائروں پر بھی ایسا ہی حزن و اندوہ طاری تھا۔ ابھی آپ مسجد کے صحن میں بھی نہ پہنچے تھے کہ بطخیں آپ کی طرف دوڑ کر چیخنے چلانے لگیں اور اُن کے ساتھ اس برفیلی صبح کو ہواؤں نے بھی فریاد و زاری کی صدائیں بلند کیں۔
نمازی سکوت و خاموشی کے ساتھ آپ کی طرف بڑھے، انہوں نے بطخوں کو امام کے پاس سے ہٹانا چاہا، بطخیں نہ آپ کے پاس سے دور ہٹیں نہ انہوں نے چیخنا چلانا بند کیا، اسی طرح ہوا بھی سنسناتی رہی۔ گویا ان بطخوں اور ہواؤں کو احساس ہوگیا تھا کہ امیر المؤمنین اُس مصیبت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو دنیا میں آپ کی آخری مصیبت ہوگی۔
امیر المؤمنینؑ نے ان چیختی چلاتی بطخوں کی آواز بڑی توجہ سے سنی اور لوگوں کی طرف مڑ کر فرمایا: "انہیں ہٹاؤ نہیں کہ یہ نوحہ کرنے والیاں ہیں"۔
امیر المؤمنین کا یہ فقرہ آنے والی مصیبت کی پیشگوئی تھا۔۔
