menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Mausam Hamein Kha Jayen Ge

17 0
27.07.2026

یہ موسم ہمیں کھا جائیں گے

اس وقت پوری دنیا موسمی تغیرات کی لپیٹ میں ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کے پاس ان خطرات سے نبٹنے کے وسائل موجود ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی۔ عالمی ادارے اور خود ہمارا، اپنا ادارہ این ڈی ایم اے انتباہ جاری کرتا رہتا ہے کہ بارشیں زیادہ ہوں گی، گرمی بھی زیادہ پڑے گی، سیلاب آنے والا ہے وغیر ہ وغیرہ۔ بلاشبہ ہم نے فطرت کے ساتھ کھلواڑ کیا اور اب اس کا قانون ہمیں سزا در سزا دئیے جارہا ہے۔ پچھلے برس کے مون سون کی تباہی کے اثرات ابھی زائل نہیں ہوئے کہ ایک اور سیلاب کے خطرات موجود ہیں لیکن افسوس کا مقا م یہ ہے کہ ہم اور ہمارے حکمرانوں پر لاپرواہی اور بے حسی بدستور طاری ہے۔

ہر گزرتے سال کے ساتھ نقصان کی یہ داستان طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے لیکن پیشگی انتظامی تیاریوں میں وہ سدھار نظر نہیں آ رہا جو آنا چاہیے تھا۔

این ڈی ایم اے مسلسل کئی ہفتوں سے خبردار کر رہا ہے کہ اس سیزن میں معمول سے کہیں زیادہ شدید اور غیر متوقع بارشوں کا امکان ہے مگر ان پیش گوئیوں کے باوجود ہمارے شہروں اور دیہات میں حفاظتی انتظامات ناقص اور ادھورے ہیں۔ ندی نالوں کی صفائی نکاسیِ آب کے نظام کی بحالی اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی جیسے بنیادی کام ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نامکمل ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ کئی شہروں میں پہلی بارش کے ساتھ ہی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اب تک زیادہ اموات چھتیں گرنے سے ہوئی ہیں۔ دنیا بھر میں حالیہ عرصے کے دوران شدید گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح مظاہر ہمیں بہت کچھ سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بات اب وضاحت طلب نہیں رہی کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے گلیشیرز پگھل رہے ہیں........

© Daily Urdu (Blogs)