menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Turkiye Chalo

21 0
18.05.2026

لو جی ہم بھی آخر کار ترکیہ سے ہو ہی آے اور استنبول کی اونچی نیچی پہاڑیوں پر چلتے، گرتے پڑتے صحیح سلامت واپس بھی آگئے۔ گویا ترکیہ سے اپنے صدیوں پرانے تعلقات کی تجدید کر آئے۔ ہم سے پہلے گزرے سیانے کہ گئے کہ "خوش ہو تو سفر کرو، پریشان ہو تو سفر کرو، علم حاصل کرنا ہو تو سفر کرو"۔

اور خود ہمارا ماننا ہے کہ کرنے کو کچھ نہیں تو لازمی سفر کرو۔ ایسے مسافر جو دنیا دیکھنے کو نکلیں وہ سیاح کہلاتے ہیں اور دنیا میں بہت سے نامور سیاح گزرے کہ جن کی وجہ سے مختلف علاقوں کی تہذیبیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئیں اور آج یہ حال ہے کہ دنیا کے کئی ممالک رسومات، فنون اور حتی کہ کھانوں کی ملکیت کے لئیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ یہ سب کیا دھرا سیاحوں کے پیر میں موجود کیڑے کی وجہ سے ہوا جو ان کو چین سے ایک جگہ بیٹھنے نہیں دیتا۔

تو بات ہو رہی تھی ترکیہ یاترا کی جہاں پہنچتے ہی ہم نے اپنے جوتے اتارے اور ان میں بڑی محنت سے چھید بنائے تاکہ ارض ترکیہ کی خاک اچھی طرح چھانی جا سکے۔ اس خاک گردی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے مملکت خوباں کے وہ کونے جہاں تک ہم جا سکے، اچھی طرح چھان لئیے اور یہ نتیجه اخذ کیا کہ عوام اور خواص کا........

© Daily Urdu (Blogs)