Mazahmat Ka Haq, Tashadud Nahi
مزاحمت کا حق، تشدد کا نہیں
ہر معاشرے میں لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا بنیادی حق حاصل ہوتا ہے، لیکن اس حق کو تشدد سے جوڑ دینا ایک خطرناک سوچ ہے۔ مزاحمت اور تشدد دو الگ الگ تصورات ہیں۔ اگر یہ اصول پاکستان میں درست ہے تو بھارت، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور دنیا کے ہر خطے میں بھی اسی طرح درست ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ان دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا مترادف بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخ، قانون اور جمہوری اقدار اس کی تائید نہیں کرتیں۔
ہم فلسطین سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک مختلف مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن جب اپنے ملک میں کسی تنازع یا احتجاج کی بات آتی ہے تو ہمارے رویے بدل جاتے ہیں۔ کبھی مکمل خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور کبھی صرف ریاستی طاقت اور اس کے اختیارات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایک ذمہ دار معاشرے کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تشدد کی حمایت کی جائے اور نہ ہی اختلافِ رائے کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی جائے۔
بیسویں صدی کی کئی نظریاتی تحریکوں نے یہ تصور عام کیا کہ........
