menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Safarat Kari Ki Bareekiyan

23 0
21.04.2026

سفارت کاری کی باریکیاں

دنیا کی سیاست میں سب سے بڑا فریب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے، لوگ اسے ہی حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت اکثر اس کے الٹ ہوتی ہے۔ ٹی وی سکرینوں پر سخت بیانات چل رہے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جا رہی ہوتی ہیں، جنگ کے نقوش ابھر رہے ہوتے ہیں، مگر انہی لمحوں میں کہیں دور، کسی محفوظ اور خاموش کمرے میں وہی مخالف فریق ایک میز کے گرد بیٹھ کر ایسے الفاظ تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو جنگ کو روک سکیں۔ یہی سفارت کاری ہے، ایک ایسا فن جس میں جنگ نہیں ہوتی مگر جنگ کے فیصلے ہوتے ہیں۔

یہ وہ دنیا ہے جہاں ایک ہی ملک بیک وقت دو زبانیں بولتا ہے۔ ایک زبان عوام کے لیے، دوسری پسِ پردہ مذاکرات کے لیے۔ عوام کے لیے بیانیہ سخت ہوتا ہے، نعرہ ہوتا ہے، دبنگ مؤقف ہوتا ہے۔ لیکن اصل کام ان جملوں کے پیچھے ہوتا ہے جنہیں کوئی کیمرہ نہیں دیکھتا۔

سفارت کاری دراصل ریاستوں کے درمیان تعلقات کو اس انداز میں چلانے کا فن ہے جس میں تصادم کم سے کم ہو اور مفاد زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ یہ صرف ملاقاتوں، مصافحوں یا مشترکہ اعلامیوں کا نام نہیں بلکہ وقت کے انتخاب، لفظوں کے وزن، خاموشیوں کے مفہوم اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ کا نام ہے۔

یہاں ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہمیشہ موجود رہتی ہے، جنگیں دراصل اس بات کا اعلان ہوتی ہیں کہ سفارت کاری ناکام ہوگئی ہے۔ جب بات چیت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر بندوقیں بولتی ہیں اور تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، صرف نقصان کا فرق ہوتا ہے۔

سفارت کاری کی سب سے بڑی باریکی اس کا دوہرا وجود ہے۔ ایک عوامی، ایک حقیقی۔ عوامی وجود سخت، جذباتی اور سیاسی ہوتا ہے جبکہ حقیقی وجود نرم، محتاط اور حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے۔

اگر آج........

© Daily Urdu (Blogs)