menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Meri Subh Lota Do

26 0
11.04.2026

مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ زندگی کی بڑی تبدیلیاں بڑے فیصلوں سے آتی ہیں۔ آدمی ایک دن اچانک اٹھتا ہے، شہر بدل دیتا ہے، نوکری چھوڑ دیتا ہے، کاروبار شروع کر دیتا ہے، یا کسی سے رشتہ توڑ کر نئی دنیا بسا لیتا ہے۔ لیکن وقت نے آہستہ آہستہ سکھایا کہ زندگی کی اصل اینٹیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ اتنی چھوٹی کہ ہم اکثر انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وقت پر سونا، صبح جلدی جاگنا، چند لمحے اپنے ساتھ بیٹھنا۔

میں نے اپنے اردگرد دو طرح کے لوگ دیکھے ہیں۔ ایک وہ جو سارا دن مصروف رہتے ہیں مگر شام کو ان کے چہرے پر ایسی تھکن ہوتی ہے جیسے وہ زندگی جی نہیں رہے، کوئی بوجھ ڈھو رہے ہیں۔ دوسرے وہ جو بظاہر کم شور میں جیتے ہیں لیکن ان کے کام میں برکت ہوتی ہے، بات میں وزن ہوتا ہے اور آنکھ میں وہ ٹھہرا ہوا نور ہوتا ہے جو اندر کی ترتیب اور نظم و ضبط سے پیدا ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں میں یہ فرق صرف صبح کے پہلے ایک گھنٹے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ہمارے دیہاتوں میں صبح کبھی صرف صبح نہیں رہی۔ دیہات میں کسان اس وقت کھیت کی مٹی دیکھتا تھا، شہر میں مزدور اپنے اوزار سمیٹتا تھا، اماں جی اسی وقت آٹا گوندھتی تھی، دادی اسی پہر تسبیح پر انگلیاں پھیرتی تھیں۔ یہ گھڑی ہمارے تہذیبی حافظے میں محنت، دعا اور برکت کی گھڑی رہی ہے۔ پھر نہ جانے کب ہم نے رات کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا۔ دیر تک........

© Daily Urdu (Blogs)