Khamosh Nematein
رات بھر وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ کبھی بجلی کے بل کا خیال آتا، کبھی بچوں کی فیس کا، کبھی دن بھر کی دوڑ دھوپ بدن کو یوں کھینچتی جیسے کسی نے ہڈیوں میں تھکن بھر دی ہو۔ صبح کے قریب آنکھ لگی تو سورج کافی اوپر آ چکا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھا، مگر عجیب بات تھی کہ آج سر بھاری نہیں تھا، بدن میں درد نہیں تھا، سانس ہموار تھی اور دل پر وہ بوجھ بھی نہیں تھا جو کئی دنوں سے رکھا ہوا تھا۔
وہ ابھی چارپائی پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کا چھوٹا بچہ دوڑتا ہوا آیا اور بلاوجہ اس کے گلے سے لپٹ گیا۔ بچے کے بالوں میں نیند کی خوشبو تھی۔ وہ چند لمحے اسے سینے سے لگائے........
