Islami Tareekh Mein Khwateen Hukumran
اسلامی تاریخ کو اکثر ایک ایسے بیانیے میں پیش کیا جاتا ہے جس میں اقتدار، سیاست اور حکمرانی صرف مردوں تک محدود سمجھی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مختلف ادوار میں، خاص طور پر بحران، جانشینی کے خلا یا سیاسی عدم استحکام کے مواقع پر، کئی مسلمان خواتین اقتدار میں آئیں۔ ان کی حکمرانی محض اتفاق نہیں بلکہ حالات، صلاحیت اور عوامی حمایت کا نتیجہ تھی۔
یہ روایت نہ صرف قرون وسطیٰ بلکہ زمانہ جدید میں بھی جاری رہی ہے۔ جیسا کہ برصغیر میں رضیہ سلطانہ 1236 تا 1240ء، اس روایت کی پہلی واضح مثال ہیں۔ انہیں اقتدار اس لیے ملا کہ سلطان التتمش کے بیٹے حکمرانی کی صلاحیت سے محروم تھے اور خود التتمش نے رضیہ کو ولی عہد نامزد کیا تھا۔ رضیہ نے عدل، اہلیت اور براہِ راست قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اہلیت کی بنیاد پر عہدیدار مقرر کیے، خود دربار اور فوج کی قیادت کی اور مرکزی حکومت کو مضبوط بنایا۔ تاہم ترک امرا کی سازشوں اور سماجی مزاحمت نے ان کی حکومت کو کمزور کر دیا۔ جمال الدین یاقوت کی تقرری جیسے بعض فیصلے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوئے اور بالآخر وہ 1240ء میں اقتدار سے محروم ہوگئیں۔
مصر میں 1250ء میں شجر الدر کا اقتدار ایک ہنگامی صورتِ حال کا نتیجہ تھا۔ صلیبی جنگ کے دوران سلطان الصالح ایوب کی وفات کے بعد انہوں نے ریاست کو........
