menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sifarti Faslay Ki Nai Hikmat e Amli

27 0
26.04.2026

سفارتی فاصلے کی نئی حکمتِ عملی

واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی فاصلہ محض جغرافیائی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے کی ایک پیچیدہ علامت بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر کے مجوزہ دورۂ اسلام آباد کی منسوخی کا اعلان کیا گیا، بظاہر ایک سادہ انتظامی فیصلہ محسوس ہو سکتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کارفرما عوامل نہایت گہرے اور کثیرالجہتی ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کی موجودہ سفارتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کے ساتھ پیچیدہ مذاکراتی عمل اور پاکستان کے علاقائی کردار کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بیان میں جو سب سے نمایاں پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے، وہ روایتی سفارت کاری کے مقابلے میں جدید، براہِ راست اور فوری رابطے کے ذرائع پر انحصار کا رجحان ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ "ہم یہی کام فون پر بھی مؤثر طریقے سے کر سکتے ہیں" دراصل اس بدلتی ہوئی سفارتی حکمت عملی کا اظہار ہے جس میں طویل اور رسمی دوروں کے بجائے فوری، غیر رسمی اور ڈیجیٹل رابطوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی معاملات، خصوصاً ایران جیسے حساس فریق کے ساتھ تعلقات، محض........

© Daily Urdu (Blogs)