menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Meri Apni Kahani (2)

38 7
18.02.2026

جی سیون میں گولڈن مارکیٹ اور گلشن مارکیٹ کے درمیان ایک بند سی مارکیٹ ہوا کرتی تھی، جس کا ڈیزائن اپنے وقت سے بہت آگے اور نہایت انوکھا تھا۔ ڈبل ہائٹ، مکمل طور پر کورڈ مارکیٹ۔ اس کے فرسٹ فلور پر ایک چھوٹا سا ریستوران تھا جہاں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لگا ہوتا تھا۔ یہی میری زندگی کا پہلا ٹی وی تھا جسے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ سکرین پر گاڑیاں دوڑتی تھیں، لوگ بھاگتے تھے اور میں حیرت سے سوچتا تھا کہ آخر یہ سب اس ڈبے کے اندر کیسے سما گیا ہے۔ تجسس میں میں ٹی وی کے عقب میں جا کھڑا ہوا کہ شاید اس کے اندر ہی لوگ بند ہوں۔

ایک اور عجیب و دلکش منظر ان دونوں مارکیٹوں کے بیچ کھلے میدان میں ہر ہفتے کی ایک شام سجتا تھا۔ ایک فوکسی کار پر پروجیکٹر نصب کیا جاتا اور اوپن ایئر سنیما میں فلم دکھائی جاتی۔ غالباً یہ حکومتی سطح پر عوام کے لیے مفت تفریح تھی۔ ٹھنڈی شام، کھلا آسمان اور چلتی فلم، وہ لمحے اب خواب معلوم ہوتے ہیں۔

اسلام آباد کے ستر کی دہائی کے سالوں کی یادیں اب دھندلا چکی ہیں۔ بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ ہماری پرائمری اسکول کی ٹیچر مس مسعود اب بھی حیات ہیں اور سیالکوٹ میں مقیم ہیں۔ میرے دوست بریگیڈیئر آصف نے کسی طرح انہیں ڈھونڈ نکالا۔ ماضی کے کردار یادوں میں زیادہ حسین لگتے ہیں، جب وہ صرف یاد رہیں تو ان کی قدر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اب مس مسعود سے کبھی کبھار رابطہ ہو جاتا ہے۔ وہ عمر کی سترہویں دہائی میں ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ اب ہم انہیں اس شدت سے یاد نہیں کرتے۔ شائید ہم زمانے سے رفتار سے بہت آگے تک سفر کر گئے یا انسانی فطرت ہے، جو چیز ہاتھ میں نہ ہو اس کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

یہی حال میری کلاس فیلو لبنیٰ کا ہوا، جس کی بچپن کی بھولی بھالی تصویر ذہن میں محفوظ تھی، مگر حال ہی میں ایک دوست نے ادھیڑ عمری کی تصویر دکھا کر وہ تاثر بھی کرچی کرچی کر دیا۔ شاید کئی دہائیوں بعد ہمیں دیکھ کر بھی کسی اور کو........

© Daily Urdu (Blogs)