Pachtawa
Regrets یعنی افسوس، پچھتاوا، حسرت، وغیرہ وغیرہ۔
دنیا بھر کے آباد اور برباد انسانوں میں ہر کوئی کسی نہ کسی حسرت، افسوس اور پچھتاوے کا شکار ہوا ہے یا رہتا ہے۔
کسی کی تعلیم، کسی کا دولت، کسی کا عزت، کسی کی ذلت، کسی کا شکست اور کسی کی فتح، غرض طرح طرح کی صورتیں ہیں اور ایک ہے بنی اُمیہ کا Regret، افسوس اور پچھتاوا۔
ایسا progressive اور constructive پچھتاوا کہ جس نے تاریخ کو مکمل طور سے بدل دیا، global maps بدل گیا اور ایسی بہترین civilizations اور cultures کو پیدائش کیا، جس کے تحریر اور بیان نے کتنے ہی لوگوں کو شہرت، عزت اور خوش حالی دی ہے۔
جی ہاں وہی بنی اُمیہ Ummyads جن کو جنوبی ایشیا اسلام کے تمام فرقوں کے مسلمان یکساں طور سے اپنی کتابوں، تقریر اور باتوں میں لعن اور طعن کرتے ہیں۔
صلح حدیبیہ کے بعد کا پہلا سال ہے، مکہ کے دو جوان بھر پور غور اور فکر، سوچ اور بچار کے بعد، علیحدہ علیحدہ مدینہ کے سفر کا ارادہ کرتے ہیں۔ ایک ہے بنو امیہ کا حارث ابن ہشامؓ، دوسرا ہے بنو مخزوم (بنو امیہ کے قریب ترین حلیف) خالد ابنِ ولیدؓ۔
مکہ سے نکلنے کے کئی میل کے بعد ایک دوسرے سے interaction ہوتا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے اسلام قبول........
