Railway Ki Sisakti Rooh, Bhool Qurbaniyan Aur Aik Wafadar Insan Ki Talash
ریلوے کی سسکتی روح، بھولی قربانیاں اور ایک وفادار انسان کی تلاش
بندن میاں آج ایک خستہ حال ریلوے اسٹیشن کی ٹوٹی ہوئی بینچ پر بیٹھے تھے۔ وہی پرانی بینچ جس کے رنگ کو زنگ کھا چکا تھا جس کی لکڑی بارشوں اور دھوپ کی مار سہتے سہتے اس بوڑھے مزدور کی ہڈیوں جیسی ہوگئی تھی جو پوری زندگی ریل کی پٹریوں پر ہتھوڑا مارتا رہا اور آخر میں پنشن کے دفتر کے چکر لگاتے لگاتے قبرستان جا پہنچا۔ اسٹیشن کے بورڈ پر لکھا نام بھی آدھا مٹ چکا تھا جیسے اس ملک میں اداروں کے نام تو باقی رہ جاتے ہیں مگر ان کی روح مر جاتی ہے۔
دور کہیں پٹریوں کے درمیان جنگلی گھاس اگ آئی تھی اور خاموشی اس طرح پلیٹ فارم پر ایسے چھائی ہوئی تھی جیسے یہاں کبھی زندگی آئی ہی نہ ہو۔ بندن میاں نے اپنی میلی سی چادر درست کی سرد آہ بھری اور سامنے کھڑی اس بوڑھی انجن کی لاش کو دیکھنے لگے جو نمائش کے طور پر یہاں لاکر کھڑا کیا تھا جس کے اندر سے اب دھواں اٹھتا ہوا تو دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر بندن میاں کو اس کے اندر سےآتی ہوئی سسکیوں کی اٹھتی ہوئی آوزیں سنائی دے رہی تھی۔ کبھی یہی ریلوے اس ملک کی شہ رگ ہوا کرتی تھی۔ یہی اسٹیشن زندگی کی دھڑکن تھے۔ یہاں شامیں بھی زندہ ہوتی تھیں اور راتیں بھی۔ پلیٹ فارم پر چائے والوں کی آوازیں گونجتی تھیں، چائے گرم، چائے گرم، اخبار فروش آج کی تازہ خبر۔۔ آج کی تازہ خبر کی آوازیں بلند کرتے ہوئے اخبار بیچتے دوڑتے پھرتے تھے۔
مسافر اپنے خوابوں کے ساتھ ٹرینوں میں سوار ہوتے تھے مائیں بچوں کو سینے سے لگائے کھڑکیوں سے ہاتھ ہلاتی تھیں فوجی جوان اپنی وردیوں میں ملبوس وطن کی سرحدوں کی طرف روانہ ہوتے تھے طلبہ کتابیں اٹھائے مستقبل کی تلاش میں سفر کرتے تھے مزدور اپنے خاندانوں کی بھوک مٹانے کے لیے شہروں کا رخ کرتے تھے اور ہر اسٹیشن صرف اینٹ پتھر کی عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ دنیا ہوا کرتا تھا۔ ریل صرف فولادکی پٹری پر چلنے والی مشین نہیں تھی یہ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے والا رشتہ تھی۔ بندن میاں اکثر کہا کرتے ہیں کہ اس ملک کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی سب سے بڑی گواہ اگر کوئی چیز ہے تو وہ پاکستان ریلویز ہے۔
مگر آج، آج اس اسٹیشن پر نہ وہ رونق تھی، نہ وہ آوازیں، نہ وہ اعتماد۔ صرف ٹوٹے شیشے، بجھے بلب، خالی ٹکٹ گھر اور دیواروں پر سیاستدانوں کے پھٹے ہوئے پوسٹر باقی رہ گئے تھے۔ بندن میاں نے گرد سے اٹے ہوئے پلیٹ فارم کو دیکھا اور دھیرے سے بولے، یہاں اب ٹرینیں کم اور یادیں زیادہ گزرتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ریلوے کے ملازم اپنے ادارے پر فخر کیا کرتے تھے۔ گارڈ اپنی سبز جھنڈی کو عزت سمجھتا تھا ڈرائیور انجن کو اپنی اولاد کی طرح سنبھالتا تھا پٹریوں پر کام کرنے والا گینگ مین شدید گرمی میں بھی سینہ تان کر کھڑا رہتا تھا........
